رسائی کے لنکس

ویلز کی پبلک ریسرچ، سوانسی یونیورسٹی نے دعوی کیا ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں گردن اور پیٹھ کے درد کا علاج کروانے والے بچوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے

طبی ماہرین نےخبردار کیا ہے کہ کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور ویڈیو گیمز کے استعمال سے بچوں کا گردن اور بیک کا درد میں مبتلا ہونا بڑھتے ہوئے بچوں کی نشوونما کے حوالے سے ایک'ہیلتھ ٹائم بم' ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، برطانیہ میں گذشتہ برس پرائمری اسکولوں کے تقریباً دو تہائی بچوں کو گردن اور پیٹھ کے درد کےعلاج کے لیے ڈاکٹروں کے پاس لایا گیا۔

'دی ٹیلی گراف' کے حوالے سے برطانوی محقیقین کا کہنا ہے کہ تحقیق کا نتیجہ کمپیوٹر، ویڈیو گیمز کے بے جا استعمال کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے بچوں کی صحت پر پڑنے والے نقصان دہ اثرات کےحوالے سےطبی کمیونٹی میں پائے جانے والے خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔

ویلز کی پبلک ریسرچ سوانسی یونیورسٹی نے دعوی کیا ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں گردن پیٹھ اور کمر کے درد کا علاج کروانے والے بچوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔

تحقیق کا حصہ بننے والے 7 سے 18 برس کے 204 بچوں اور نوجوانوں نے اپنے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں ماہرین کو تفصیلی انٹرویو دیا۔

نتیجے سے پتا چلا کہ ثانوی اسکولوں کے 64 فیصد طالب علم گردن اور پیٹھ کے درد کی شکایت میں مبتلا تھے اسی طرح 90 فیصد طالب علموں نے بتایا کہ انھیں بیک کا درد محسوس ہوتا ہے لیکن اس بات کا انھوں نے کسی سے ذکر نہیں کیا ہے۔

علاوہ ازیں، پرائمری اسکولوں کے 72 فیصد طالب علموں نے محقیقین سےگردن اور پیٹھ کے درد کی شکایت کی۔

ماہرین نے بتایا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے ستمبر 2011 میں گردن اور پیٹھ کے شدید درد میں مبتلا2.1 فیصد بچوں کو فزیو تھراپسٹ کے پاس بھیجا گیا تھا جن کی تعداد مارچ 2012 تک بڑھکر4.5 فیصد تک جا پہنچی۔

تحقیق سے منسلک فزیوتھراپسٹ لورنا ٹیلر نے کہا کہ،'ماڈرن طرز زندگی اور ٹیکنالوجی کا بےجا استعمال بڑھتے ہوئے بچوں کی صحت پر دیرینہ مضر اثرات مرتب کر رہا ہے اگر اس مسئلہ کے حل کے لیےگھر اور اسکولوں میں توجہ نہیں دی گئی تو خدشہ ہے کہ مستقبل کے معماروں کی صحت کے لیےیہ ایک بڑاخطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'بچوں کو معزوری اور زندگی بھر کے دکھ سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ رفتہ رفتہ ہم اپنی عادتیں بدلیں اور بچوں کو ایسے وسائل مہیا کریں کہ وہ اپنی تعلیمی صلاحیتیں اور اسپورٹس کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں.'

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ورزش کرنے والا شخص بھی ہر روز کئی گھنٹےایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرتا ہے تو اسے بھی گردن اور پیٹھ کےدرد کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

برٹش کائروپریکٹس ایسوسیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دستی کلینک میں پیٹھ کے درد کےعلاج کےلیےآنےوالےکم عمرمریضوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔

تحقیق کے نگراں آدم الکاشی نے نتیجے کے حوالے سے کہا کہ، 'ماڈرن طرز زندگی اور ٹیکنالوجی جہاں ہمیں بہت سے فوائد پہنچا رہی ہے، وہیں اس کا ایک نقصان دہ پہلو یہ بھی کہ ٹیکنالوجی کی بدولت آج ہم غیرفعال ہوتے جا رہے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں سے دور ہو گئے ہیں۔'
XS
SM
MD
LG