رسائی کے لنکس

نریندر مودی نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو بتایا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف لڑائی کئی سطح پر لڑی جانی چاہئیے۔ اور فوج، انٹیلی جنس یا سفارت کاری کے روایتی آلات اکیلے طور پر یہ لڑائی جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے‘‘

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز امریکی کانگریس کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور امریکہ کے مابین قریبی تعلقات کا مطالبہ کیا، خاص طور پر دہشت گردی کے تدارک کے حوالے سے۔

مودی نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو بتایا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف لڑائی کئی سطح پر لڑی جانی چاہئیے۔ اور فوج، انٹیلی جنس یا سفارت کاری کے روایتی آلات اکیلے طور پر یہ لڑائی جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘

بقول اُن کے، ’’(دہشت گردی) سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں، ہم نے شہری اور فوجی دونوں طرح کا نقصان اٹھایا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے سکیورٹی کے تعاون کو مزید گہرا کریں‘‘۔

دہشت گردی کے علاوہ، کانگریس کے کچھ ارکان جوہری اور آبی وسائل کی سکیورٹی کے شعبہ جات؛ اور چین سے لاحق فوجی خطرات، شمالی کوریا اور ایران کے بارے میں بھارتی موقف جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مودی کے دورہ امریکہ کو دونوں ملکوں کے درمیان فروغ پاتے ہوئے تعلقات کو مزید تقویت دینے کی کوشش خیال کیا جا رہا ہے۔ اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مودی بھارت کو عالمی طاقت کے طور اور اپنی معیشت کو دنیا کی تیز ترین افزائش کی حامل معیشت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وائٹ ہائوس ملاقات

مودی نے منگل کے روز امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کی؛ اور بعدازاں، اوباما نے اعلان کیا کہ بھارت چھ جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کا کام جاری رکھے گا، جن کی تعمیر امریکی کمپنیوں نے کی ہے؛ جو سنہ 2008 میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سنگِ میل سولین جوہری سمجھوتے کا نتیجہ ہے۔

ڈفینس لاجسٹکس کے شعبے میں سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے، وائٹ ہائوس مودی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ملاقات کے بعد مودی اور اوباما نے اعلان کیا کہ اس سال کے اواخر تک بھارت ’پیرس موسمیاتی معاہدے‘ کی باضابطہ منظوری دے گا۔

ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر، پال رائن نے بدھ کے روز مودی کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت دی تھی، جو سنہ 1985 کے بعد کانگریس سے خطاب کرنے والے پانچویں بھارتی وزیر اعظم ہیں۔ اس سے قبل، سنہ 2005 میں مودی کے پیش رو، من موہن سنگھ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔

مودی کی جانب سے کانگریس سے اس خطاب سے قبل اُن کی آبائی ریاست میں مذہبی تشدد کے واقعات کے پیشِ نظر کئی برسوں تک امریکہ نے اُنھیں نظرانداز کیے رکھا۔ سنہ 2005میں اُنھیں امریکی ویزا دینے سے انکار کیا گیا، جب بھارتی حکام کو معلوم ہوا کہ اُن کی آبائی ریاست گجرات کی حکومت میں، جہاں وہ اعلیٰ عہدے دار رہے تھے، وہ سنہ 2002 میں ہندو مسلمان فسادات کے ذمہ دار گردانے گئے، جن واقعات میں کہا جاتا ہے کہ1000 سے زائد مسلمان ہلاک ہوئے۔

امریکی اہل کار عام طور پر مودی سے ملنے سے گریز کرتے تھے، ماسوائے تب جب وہ سنہ 2014 میں وزیر اعظم بنے۔ تب سے اُنھوں نے چار مرتبہ امریکہ کا دورہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG