رسائی کے لنکس

مودی کا دورۂ امریکہ طے پانے کی اطلاعات


فائل

فائل

بھارتی اخبارات 'ٹائمز آف انڈیا' اور 'ہندوستان ٹائمز' نے جمعرات کی اشاعت میں خبر دی ہے مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا دورہ کریں گے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ نومنتخب وزیرِاعظم نریندر مودی نے صدر براک اوباما کی جانب سے دی جانے والی دورۂ امریکہ کی دعوت قبول کرلی ہے۔

بھارتی اخبارات 'ٹائمز آف انڈیا' اور 'ہندوستان ٹائمز' نے جمعرات کی اشاعت میں خبر دی ہے مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا دورہ کریں گے۔

تاہم برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے بھارتی حکومت کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ وزیرِاعظم مودی نے ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

بھارتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ نریندر مودی صدر اوباما کی جانب سے دی جانے والی دورۂ امریکہ کی دعوت قبول کرلیں گے اور عین ممکن ہے کہ ان کا یہ دورہ رواں سال موسمِ خزاں میں ہوگا۔

اہلکار نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ دورے کی حتمی تاریخوں پر بھارتی اور امریکی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

نئی دہلی میں قائم امریکی سفارت خانے نے بھارتی صدر کے ممکنہ دورے کی اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم کا دورۂ امریکہ طے پانے کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کہ امریکہ کی نائب وزیرِ خارجہ نیشا بسوال جمعے کو نئی دہلی پہنچ رہی ہیں۔

نئی بھارتی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کےبعد کسی اعلیٰ امریکی اہلکار کا نئی دہلی کا یہ پہلا دورہ ہوگا جس میں امریکی نائب وزیر بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کے ساتھ ملاقات کریں گی۔

'رائٹرز' کے مطابق امریکی نائب وزیرِ خارجہ کے دورۂ بھارت کی تکمیل پر وزیرِاعظم مودی کے دورۂ امریکہ کی تاریخوں کا اعلان کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

امریکہ بھارت کو چین کےمقابلے میں خطے میں اپنا اہم اتحادی اور معاون قرار دیتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی سالانہ تجارت کا حجم 100 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے ۔

سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور معیشت سے متعلق امور پر باہمی تعاون بڑھانے کے لیے گزشتہ کئی برسوں کے دوران دونوں حکومتوں کی کوششوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔

اوباما انتظامیہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کا حجم 500 ڈالر سالانہ تک بڑھانا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ نریندر مودی پر سنہ 2002ء کے گجرات فسادات میں ملوث ہونے کے الزام کے باعث ماضی میں امریکہ و دیگر مغربی ممالک ان کے ساتھ رابطوں سے احتراز برتتے رہے ہیں۔

گجرات فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکی حکام نے 2005ء میں نریندر مودی کو جاری کیا جانے والا امریکی ویزہ بھی منسوخ کردیا تھا۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

گجرات کے سابق وزیرِاعلیٰ مودی ان فسادات میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتے ہیں لیکن بھارت کی اقلیتیں خصوصاً مسلمان اور انسانی حقوق کے ادارے ان کے دورِ حکومت میں ہونے والے ان فسادات کا ذمہ دار انہیں بھی ٹہراتے ہیں۔

'بھارتیہ جنتا پارٹی' کی جانب سے مودی کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کرنے اور ذرائع ابلاغ میں ان کی کامیابی کی پیش گوئیوں کے بعد رواں سال فروری میں بھارت میں امریکی سفیر نے مودی سے ملاقات کی تھی جو امریکہ اور متوقع بھارتی وزیرِاعظم کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ تھا۔
XS
SM
MD
LG