رسائی کے لنکس

مودی وزارتِ عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد


فائل

فائل

وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نامزد ہونے کے بعد اب مودی 2014ء کے وسط میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔

بھارت میں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت 'بھارتیہ جنتا پارٹی' نے متنازع رہنما اور ریاست گجرات کے وزیرِاعلیٰ نریندر مودی کوآئندہ عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔

وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نامزد ہونے کے بعد اب مودی 2014ء کے وسط میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔

مودی کی نامزدگی کا اعلان جمعے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی صدر راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں واقع پارٹی کے صدر دفتر میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد کیا۔

اپنی نامزدگی کے اعلان کے بعد صحافیوں کے ساتھ مختصرگفتگو کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ وہ 2014ء کے انتخابات میں اپنی جماعت کو کامیابی دلانے کے لیے سخت محنت کریں گے۔

انہوں نے اس موقع پر خود کو "ایک چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والا ادنیٰ کارکن" قرار دیا۔

ایک چائے والے کے بیٹے سے بھارت کی ریاست گجرات کی وزارتِ اعلیٰ تک سفر کرنے والے نریندر مودی کو جہاں ان کے حامی گجرات کی مثالی ترقی اور ریاست میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کا کریڈٹ دیتے ہیں، وہیں ان کے مخالفین ان پر گجرات میں 2002ء میں ہونے والے بدترین ہندو مسلم فسادات کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔

گجرات فسادات اور ان میں مودی کے مبینہ کردار کی بنیاد پر یورپی ممالک اور امریکہ ماضی میں مودی کو ویزہ دینے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں 62 سالہ مودی کے مقابلے کے لیے بی جے پی کی روایتی حریف اور موجودہ حکمران جماعت کانگریس اپنے جواں سال رہنما راہول گاندھی کو میدان میں اتار سکتی ہے۔

اگر ایسا ہوا تو گاندھی اور مودی کی قیادت میں چلنے والے دونوں جماعتوں کی انتخابی مہم خاصی دلچسپ ہوگی جہاں ایک جانب تو ہندوستان کے صفِ اول کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیمِ یافتہ اور نسبتاً دھیمے مزاج کے راہول گاندھی، جلسوں میں آگ لگادینے کے فن سے آشنا شعلہ بیاں مودی کا مقابلہ کریں گے۔

تجزیہ کار دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت کے آئندہ عام انتخابات کو ملک کی ان دونوں بڑی جماعتوں – کانگریس اور بے جے پی - کےلیے ایک سخت امتحان قرار دے رہے ہیں۔

اس امتحان میں جہاں کانگریس کو اپنی موجودہ حکومت کے دوران میں پے در پے سامنے آنے والے اسکینڈلز اور روبہ زوال معیشت پر عوام کے کڑے سوالوں کا سامنا کرنا ہوگا، وہیں مودی کی قیادت والی بی جے پی کو ان ریاستوں میں سخت مشکل کا سامنا ہوگا جہاں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تمام تر صورتِ حال کا فائدہ علاقائی جماعتوں کو پہنچے گا اور بھارتی پارلیمان کے 272 رکنی ایوانِ زیریں 'راجیہ سبھا' کے انتخاب کے بعد حکومت سازی کے لیے دونوں بڑی جماعتیں چھوٹی اور علاقائی جماعتوں کے رحم و کرم پر ہوں گی۔
XS
SM
MD
LG