رسائی کے لنکس

پینٹنگز کی نمائش۔ "رَنگوں کی آواز"

  • افضل رحمان

معروف مصور محمد علی بھٹی کی مصوری

معروف مصور محمد علی بھٹی کی مصوری

معروف مصور محمد علی بھٹی نے مغربی اور مشرقی سازوں اور ان پر فن کا مظاہرہ کرنے والوں کو اپنی پینٹنگز کا موضوع بنایا ہے اور پس منظر میں تھر کی ثقافت نمایاں ہے

رَنگوں کی آواز۔ Sound of Colours اس عنوان سے لاھور کی Revivers Galleriaمیں پینٹنگز کی ایک نمائش آرٹ کے دلدادہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جس میں رکھی گئی درجنوں پینٹنگز میں معروف مصور محمد علی بھٹی نے مغربی اور مشرقی سازوں اور ان پر فن کا مظاہرہ کرنے والوں کو اپنی پینٹنگز میں پیش کیا ہے۔ اُنہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُن کے ان فن پاروں میں حقیقت بھی ہے اور مجاز بھی اور وہ اپنی پینٹنگز کو ایک آرکسٹرا کی طرح سمجھتے ہیں جس میں مختلف سازوں سے تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عام لوگوں کی اور آرٹ کے شائقین کی اِن پینٹنگز میں دلچسپی سے اُن کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

Revivers Galleria کی نگران سارہ انجم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ محمد علی بھٹی تھر کی ثقافت سے بہت متاثر دکھائی دیتے ہیں اور اِن کی بہت سے پینٹنگز کے پس منظر میں تھر کی ثقافت کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ویسے بھی آجکل محمد علی بھٹی جام شورو میں واقع یونیورسٹی آف سندھ کی انسٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے ڈائریکٹر ہیں۔ سارہ انجم نے بتایا کہ یہ مصور بڑا طویل سفر کرکے اس مقام تک پہنچا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محمد علی بھٹی نے پنجاب یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں ایم ۔اے کرنے کے بعد امریکہ کی ریاست پنسلو ینیا کی ایڈنبرا یونیورسٹی سے ایم۔ایف ۔ اے کی ڈگری لی اور پھر اُنیس سو اٹھانوے میں اُنہوں نے اوہایو یونیورسٹی کے سکول آف کمپیریٹو آرٹس سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی۔ تاہم اُن کا خاص شوق پورٹریٹ بنانا رہا ہے۔

محمد علی بھٹی نے بتایا کہ مشرق اور مغرب میں جو ساز بجائے جاتے ہیں اُن کو پورٹریٹ کے ساتھ مِلا کر اُنہوں نے فن پاروں میں پیش کیا ہے جن میں اُنہوں نے ساز بجاتے ہوئے فن کار کی جو کیفیت ہوتی ہے اُس کو بھی اِن پینٹنگز میں محفوظ کر دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محمد علی بھٹی نے بتایا کہ پاکستان اورامریکہ میں اُن کی بہت سی نمائشیں ہوچکی ہیں اور اُن کے فن پارے ملائیشیا ، تھائی لینڈ اور نیپال میں بھی کئی نمائشوں کی زینت بن چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ میں وہ برسوں مختلف یونیورسٹیوں میں فائن آرٹس کا مضمون پڑھاتے رہے ہیں اور وہاں اُنہوں نے کئی سینیٹرز کے پورٹریٹ بھی بنائے جو بہت پسند کیے گئے۔

آرٹ گیلری کی نگران سارہ انجم نے بتایا کہ محمعد علی بھٹی ملائیشیا کے سابق صدر مہاتر بن محمد کا بھی پورٹریٹ بنا چکے ہیں جس کی ملائیشیا میں سرکاری سطح پر پذیرائی ہوئی تھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی آرٹ کی ایک معروف نقاد Marjorie Hussainمارجوری حسین کا کہنا ہے کہ محمد علی بھٹی گردو نواح کے ماحول، روشنی اور سائے کے ساتھ ساتھ موسیقی کے فن کار کے ساز بجانے کے انداز کی مدد سے اپنے فن پاروں کو سجا کر کوئی منجمد تصویر پیش نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے ماڈل کے دل ودماغ تک پہنچ کر اُس کے محسوسات کو پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مارچ میں شروع ہونے والی یہ نمائش لاھور کی اس آرٹ گیلری میں اپریل میں بھی جاری رہے گی۔

XS
SM
MD
LG