رسائی کے لنکس

محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن وامان یقینی بنانے کے لیے حکومتی سطح پرچاروں صوبوں میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔


پاکستان میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا ہے ۔جمعہ 16نومبر کو یکم محرم ہے جبکہ یوم عاشور 25نومبربروز اتوار کو ہوگا۔ چاند نظرآنے کا اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کیا۔ ان کی زیر صدارت جمعرات کو کراچی کے محکمہ موسمیات میں مرکزی اجلاس ہوا جبکہ چاروں صوبوں کے زونل دفاتر میں بھی اجلاس منعقد ہوئے۔ ملک کے بالائی علاقوں سے چاند نظر آنے کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کے بعدچاند نظر آنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ۔

محرم کے دوران انتہائی سخت اور غیرمعمولی سیکورٹی

صوبہ سندھ
محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حکومتی سطح پرچاروں صوبوں میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے سیکیورٹی پلان کے مطابق کراچی، حیدرآباد اور خیرپور میں 10محرم تک ہائی الرٹ رہے گا۔محکمہ داخلہ سندھ کے تیارکردہ سیکورٹی پلان کے مطابق محرم الحرام کے دوران کراچی میں 21 ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔ کراچی میں 344 مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے جس میں ضلع غربی میں 169 حساس مقامات ہیں۔ کراچی میں سیکورٹی پلان 3 زونز پر مشتمل ہوگا۔

یکم محرم کو پولیس اور رینجرز حساس مقامات پر فلیگ مارچ کریں گے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مجالس اور جلوسوں کی نگرانی بھی کی جائے گے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کو بھی تیار رکھا گیا ہے ۔

سندھ کے دیگر شہروں میں 35 ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار سیکیورٹی پر مامور کئے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ ہاوٴس میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے ۔ تمام ڈویژنل کمشنرز، آئی جی سندھ، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی آئی جیزکے دفاتر میں بھی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔

کراچی کے ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر مصطفی جمال کی جانب سے ڈسٹرکٹ ساوٴتھ کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر تمام اداروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈپٹی کمشنرکی ہدایات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے محرم الحرام کے دوران ایسے تمام علاقوں کے گردونواح کی باقاعدہ سرچ کریں گے جہاں سے جلوس برآمدہوں گے اور مجالس منعقد ہوں گی۔ اس دوران کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی جانب سے جلوس کی گزرگاہوں پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی جبکہ تمام اداروں کو محرم کے دوران الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

تمام موٹر سائیکل سواروں سے کہاگیاہے کہ وہ اپنے اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھیں۔شہر میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق فینسی نمبر پلیٹ، غیر رجسٹرڈاور کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف مہم جاری ہے۔ ایسی گاڑیوں کے مالکان کو پہلے ہی ہدایات جاری کردی گئی تھیں کہ وہ فوری طور پر گاڑیاں رجسٹرڈ کرا لیں ، فینسی نمبر پلیٹ اور کالے شیشے ہٹادیں۔

پنجاب
محرم کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے صوبے پنجاب میں بھی خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے ۔شہباز شریف کی جانب سے اشتعال انگیز تقاریر اور منافقت پر مبنی لٹریچر پھیلانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت کی گئی ہیں جبکہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال،وال چاکنگ اور اسلحہ کی نمائش کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ لاہور میں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں سے سیکیورٹی انتظامات کی مؤثر مانیٹرنگ کی جائے گی۔

علاوہ ازیں و زیر اعلیٰ پنجاب کے سینیئر مشیرسردار ذوالفقار کھوسہ نے لاہور سمیت پنجاب کے 8 اضلاع کو حساس قرار دیا ہے ۔ان میں لاہور،رحیم یار خان، جھنگ، چینوٹ، ڈی جی خان بھی شامل ہیں ۔یہاں ضرورت پڑنے پر فوج اور رینجرز کو طلب کیا جا سکے گا۔ سردار ذوالفقار کھوسہ کے مطابق دھماکہ خیز مواد کی نشاند ہی کرنے والے 100 سے زائد کتے منگوا ئے گئے ہیں۔

خیبر پختونخواہ
صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی محرم الحرام کے حوالے سے فول پروف سیکیورٹی پلان تیارکیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق 6 محرم الحرام سے اندرون شہر پشاور کو مکمل طور پر سیل کردیاجائے گا ۔ جلوسوں کی نگرانی کے لئے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے جارہے ہیں ۔

پشاور میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ شہر کی 32 امام بارگاہوں کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔ ان امام بارگاہوں پر ایف سی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ جلوسوں کی مانیٹرنگ کے لئے شہر میں 4 سپریم کمانڈ پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جبکہ افغان مہاجرین کی شہر کی حدود میں داخلے پر پابندی ہے۔

بلوچستان
ادھروزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے صوبے کے 8اضلاع، کوئٹہ،نصیر آباد،جعفرآباد،سبی ،کچھی،خضدار ،لورالائی اورژوب کو حساس قراردیا گیا ہے جہاں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ محرم کے دوران صوبے بھر میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے ساتھ ساتھ عاشورہ محرم کے لئے چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جانے کا پروگرام ہے ۔اس کے علاوہ ایف سی کی 25 پلاٹونز بھی تعینات کی جارہی ہیں۔ اے ٹی ایف ،بلوچستان کانسٹیبلری اور لیویز کے اہلکار بھی مامور کردیئے گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG