رسائی کے لنکس

مہمند ایجنسی میں گھمسان کی لڑائی، 30جنگجو ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر جمعرات کی صبح ایک سو سے زائد مسلح عسکریت پسندوں نے اچانک حملہ کردیا ۔ لیکن زبردست جوابی کارروائی کر کے 30 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا جب کہ ان کے باقی ساتھی پسپا ہونے کے بعد فرار ہو گئے۔

مقامی انتظامیہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ لڑائی چمرکند کے علاقے میں ہوئی اور حملہ آوروں کی تعداد لگ بھگ دو سو تھی۔ لڑائی میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی بھی ہوئے جبکہ حکام نےد دس عسکریت پسندوں کی قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔۔ ایک سرکاری بیان میں اس لڑائی اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

لیکن ایسے بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ناممکن ہے کیونکہ قبائلی علاقوں میں امن وامن کی خراب صورت حال کی وجہ سے صحافیوں کے لیے وہاں جانے پر پابندی ہے جب کہ مقامی صحافی بھی کھل کر کسی واقعہ کے بارے میں خبر دینے سے گریز کرتے ہیں۔

چمر قند سے افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کی سرحد سے دو کلومیٹر دور ہے جہاں طالبان شدت پسند باقاعدگی سے مقامی اور غیر ملکی افواج پر حملے کرتے آئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کی سرحدیں فاٹا میں شامل ایک دوسرے قبائلی علاقے باجوڑ سے جڑی ہوئی ہیں جہاں اس ہفتے پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن مکمل کرنے اور علاقے میں حکومت کی عملداری قائم کرنے کا ایک نیا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں کامیا ب آپریشن سے پاک افغان سرحد پر عسکریت پسندوں کی نقل حرکت اب رک جائے گی۔

ایک روز قبل حکام نے صحافیوں کے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے کوہاٹ شہر کے قریب ایک ہفتے سے جاری آپریشن کے دوران 38 جنگجوؤں کو ہلاک اور 18 کو گرفتار کرلیا جبکہ بڑی تعداد میں بھاری اسلحہ بھی قبضے میں لے لیے گیا۔

XS
SM
MD
LG