رسائی کے لنکس

مہمند خودکش حملے، 65 ہلاک، طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی

  • شمیم شاہد

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں جمعہ کوایک طاقتور خودکش بم دھماکے میں کم ازکم 65 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوگئے. مہمند ایجنسی میں طالبان کے ترجمان اکرام اللہ مہمند نے میڈیا کو بتایا کہ یہ حملے طالبان نے کروائے ہیں اور اس میں دو حملہ آور شامل تھے۔

عینی شاہدوں نے بتایا کہ ایجنسی کی تحصیل یکہ غنڈ میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ رسول خان کے دفتر کے باہر شہری بڑی تعداد میں اپنے مسائل کے حل کے سلسلے میں جمع تھے جب موٹر سائیکل پر سوار خودکش بمباروں نے ہجوم کے درمیان پہنچ کر دھماکا کردیا۔

رسول خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حملے میں65 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی اورخدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ زخمیوں میں کئی کی حالت نازک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی زیرحراست 30قیدی اس دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق ان مفرور قیدیوں میں چار مشتبہ طالبان بھی شامل ہیں۔

مہمند ایجنسی کی دوسری بڑی تحصیل یکہ غنڈ پشاور سے تقریباََ 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دو درجن سے زائد زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں پانچ کی حالت تشویش ناک ہے۔

مقامی حکام کا خیال ہے کہ حملہ آور کا نشانہ پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر تھا لیکن محافظوں کے روکنے پر اُس نے وہیں دھماکا کردیا۔ زور دار دھماکے سے اردگرد کی عمارتیں، دکانیں اور ایک چھوٹی جیل کو بھی نقصان پہنچا اور عینی شاہدین کے مطابق ملبے تلے کئی افراد دب گئے۔ رسول خان نے بتایا کہ لگ بھگ 70 دکانیں دھماکے میں تباہ ہو ئی ہیں۔

پاکستان کے دوسرے قبائلی علاقوں کی طرح مہمند میں بھی طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے زمینی اور فضائی کارروائیاں کی ہیں لیکن اس کے باوجود حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں کےحملوں سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ شدت پسند دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرر ہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG