رسائی کے لنکس

مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں تعلیمی سرگرمیاں بحال

  • شمیم شاہد

مہمند ایجنسی میں تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکار (فائل فوٹو)

مہمند ایجنسی میں تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکار (فائل فوٹو)

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کے بعد جمعہ سے مقامی اسکول دوبارہ کھولنے اور اساتذہ کو ڈیوٹی پر واپس آنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

افغان سرحد کے قریب مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوج اور فرنٹئیر کور کے دستے گذشتہ تین سالوں سے طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف رہے ہیں اور حال ہی میں فوجی حکام نے اس قبائلی علاقے کے نوے فیصد حصے سے طالبان عسکریت پسندوں کے صفائے کا اعلان اور بے دخل خاندانوں کو معمولات زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے واپس آنے کی اپیل کی تھی۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)


مہمند ایجنسی میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسر سید محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تحصیل صافی میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے آغاز کے بعد علاقے سے نقل مکانی کرنے والے خاندان اب واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں اس لیے مقامی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’’تحصیل صافی میں 106 اسکول گذشتہ تین سال سے بند تھے اور ان میں سے جو اسکول تباہ ہو چکے ہیں ان کے لیے ہم نے پولیٹکل ایجنٹ سے کہا ہے کہ ٹینٹ فراہم کیے جائیں تاکہ درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ ہم نے تمام اساتذہ کو اطلاع دے دی تھی کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر آ جائیں۔‘‘

اس سے قبل مہمند ایجنسی کی انبار اور بائیزئی تحصیلوں کو طالبان عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کے بعد مقامی انتظامیہ کی اپیل پر نقل مکانی کرنے والے خاندان گھروں کو واپس آ چکے ہیں اور یہاں اقتصادی و تعلیمی سرگرمیاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔

تین سال قبل مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں نے بیشتر اسکولوں پر قبضہ کر لیا تھا جب کہ کئی تعلیمی عمارتوں کو دھماکا خیز مواد سے تباہ بھی کر دیا گیا جن کی تعمیر نو بھی مقامی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مہمند میں آپریشن سے فرار ہونے والے طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان کے مشرقی صوبہ کنڑ میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ پاکستانی سرحدی چوکیوں اور دیہاتوں پر مہلک حملے کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG