رسائی کے لنکس

ملکہ تتلیوں کے 4800 کلومیٹر طویل موسم بہار کے سفر کا آغاز


ملکہ تتلیوں کے 4800 کلومیٹر طویل موسم بہار کے سفر کا آغاز

ملکہ تتلیوں کے 4800 کلومیٹر طویل موسم بہار کے سفر کا آغاز

ہر سال میکسیکو سٹی کے شمالی پہاڑوں سے تتلیوں کی ایک خوبصورت نسل ’مونارک ‘(Monarch) یا ملکہ تتلیاں 48 سوکلومیٹر کا سفر طے کر کینیڈا تک پرواز کرتی ہیں۔ اب جب کہ شمالی کرہ ارض میں بہار کے موسم کا آغاز ہوچکاہے، مادہ تتلیاں ، وسطی امریکہ کے جنگلات کے مخصوص رسیلے پودوں پر انڈے دینے کے لیے اپنے سفر پر روانہ ہورہی ہیں۔ یہ ننھی تتلیاں کس طرح اتنا طویل فاصلہ اتنے درست انداز میں طے کرتی ہیں، یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سائنس دان ایک عرصے سے تحقیق کررہے ہیں ۔ حال ہی میں امریکی سائنس دانوں کو اس سلسلے میں کچھ حیران کن معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

میکسیکو سٹی کے شمال میں واقع جنگلات میں سفر کرنے والے سیاحوں کو آج کل لاکھوں تتلیاں درختوں سے چمٹی ، جھاڑیوں پر منڈلاتی اور پرواز کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔یہ تتلیاں لاکھوں کی تعداد میں پورا موسم سرما ان جنگلات میں گذارتی ہیں اور بہار کے آغار پر یہاں سے رخصت ہوتی ہیں۔

امریکی سائنس دانوں کی قیادت میں جاری تتلیوں پر ٹیگ لگانے کے پروگراموں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تتلیاں امریکہ سے ہزاروں کلومیٹر کا فیصلہ طے کر کینیڈا پہنچتی ہیں۔ موسم بہار میں مادہ تتلیاں ان جنگلات سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں اور رسیلے پودوں پر انڈے دینے کے لیے شمال میں کنساس تک نقل مکانی کرتی ہیں۔

صرف یہی بات دلچسپ نہیں ہے کہ ملکہ تتلیاں طویل فاصلہ طے کرتی ہیں بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی منزل کے راستوں کا پتاچلاتی ہیں کیونکہ بہرطور نہ تو ان کے پاس کوئی گائیڈ ہوتاہے، نہ نقشے اور نہ ہی جی پی ایس جیسا کوئی آلہ۔ وہ اپنا راستہ تلاش کرنے کے لیے صرف اپنی دیکھنے ، سونگھنے ، اور دوسری حسوں سے کام لیتی ہیں۔

یہ تتلیاں اپنا راستہ کس طرح تلاش کرتی ہیں، اس بارے میں پتا چلانے کے لیے تتلیوں پر تحقیق کرنے والے سائنس دان پہلے ان کی پرواز کے معمول کے راستوں پر ان کاپیچھا کرتے ہیں ، پھر راستوں کاعلم ہوجانے کے بعد وہ انہیں اپنے راستے سے بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان کا پیچھا کرتے کہ وہ کہاں جارہی ہیں۔

ریاست کنساس کا علاقہ لارنس ان تتلیوں کی موسم سرما کے ٹھکانے سے دوہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔ وہاں ان تتلیوں پر تحقیق کے لیے قائم انٹرنیشنل مونارک واچ پروگرام کے ڈائریکٹر چپ ٹیلر کہتے ہیں کہ ان کی ریسرچ ٹیم نے اس طریقے کی مدد سے یہ پتا چلایا کہ تتلیوں کو اپنے راستے کے تعین کے لیے زمین کے مقناطیسی دائرے کے بارے میں بالکل صحیح معلومات کی ضرورت ہوتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ان تتلیوں کے راستے میں صرف دس سیکنڈ کے لیے ہی کوئی مقناطیسی فیلڈ آجائے تو وہ اپنا راستہ مکمل طورپر بھول جاتی ہیں۔

ماہرین کہتےہیں کہ راستے کے تعین میں تتلیوں کے لیے سورج کی روشنی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ سائنس دان سورج کی مصنوعی روشنی کی مدد سے ان تتلیوں کو بھٹکا کر غلط سمت میں ڈال سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف میساچوسٹس کے نیورو سائنس دان سٹیون رپرٹ ملکہ تتلیوں کی نقل مکانی کا جائزہ لینے کے لیے ایک انتہائی جدید آلہ استعمال کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس آلے کی مدد سے انہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تتلیاں ، دن کی روشنی میں نظر آنے والی چیزوں کی مدد سے سمتوں کا پتا چلانے والے اپنے اندورنی قدرتی نظام کو سیٹ کرتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ انہیں تتلیوں کے نظام کا پوری طرح سے علم ہوچکاہے۔ لیکن جب انہوں نے ان کے اینٹینے پر مزید توجہ مرکوز کی تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ صرف سونگھنے میں ہی مدد نہیں دیتا بلکہ وہ ارتعاش کا بھی کھوج لگاسکتا ہے ، وہ کان کے طورپر بھی کام کرتا ہے اور وہ آب وہوا میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی محسوس کرسکتا ہے۔

سائنس دانوں کو یہ تو علم تھا کہ تتلی کا دماغ آنکھوں کی مدد سے روشنی کی لہروں پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ تتلیوں کے سمتوں کے ادارک کے نظام کو دن کی روشنی میں جن معلومات کی ضرورت ہوتی ہے، یہ نظام انہیں سب معلومات فراہم کردیتا ہے۔ لیکن حالیہ تحقیق سے یہ ظاہر ہواہے کہ تتلی کا اینٹیا بھی اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تتلی کے سمتوں کے ادارک سے متعلق نظام کو اس اینٹنا سے فراہم کی جانے والی معلومات کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے جب ہوا چلتی ہے یا ان کے راستے میں کوئی اور تبدیلی واقع ہوتی تو بھی یہ تتلی اپنی صحیح سمت کی جانب پرواز کرتی رہتی ہے۔ تاہم یہ تمام عمل کس طرح انجام پاتا ہے، یہ ابھی تک ایک راز ہے۔

رپرٹ کی لیبارٹری میں اس سلسلے میں مزید تجربات کی تیاری کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تجربات سے انسانوں سمیت دوسرے جانوروں میں بھی راستوں کے تعین کے قدرتی نظام کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG