رسائی کے لنکس

منی لانڈرنگ کیس: ایم کیو ایم کے رہنما گرفتار اور ضمانت پر رہا


منی لانڈرنگ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں، بدھ کے روز لندن میں میٹرو پولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما، محمد انور کو حراست میں لیا، جنھیں، بعدازاں، ضمانت پر رہا کر دیا گیا

منی لانڈرنگ کیس کے مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں، لندن میں بدھ کو میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما، محمد انوار کو حراست میں لیا، اور تفتیش کے بعد، اُنھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

اس سے قبل، گرچہ، انسادا دہشت گردی کی کمان کی طرف سے گرفتار ہونے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا؛ لیکن، متحدہ قومی موومنٹ نے ایک بیان میں ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن، محمد انور کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

ادھر، بدھ کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ منی لانڈرنگ کے شبے میں، ایک 64 سالہ شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

لندن میں، متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر کے ترجمان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ مرکزی کمیٹی کے رکن، محمد انور کو بدھ کی صبح گرفتار کیا گیا، ’جو اس وقت میٹرو پولیٹن پولیس کی حراست میں ہیں‘۔

تفصیلات کے مطابق، پولیس کا کہنا ہےکہ تازہ گرفتاری پہلے سے جاری منی لانڈرنگ تحقیقات کا حصہ ہے۔ مشتبہ شخص کو بدھ کی صبح شمالی لندن کے ایک مکان سے گرفتار کیا گیا اور فی الحال ان سے تفتیش جاری بتائی جاتی ہے؛ جبکہ، بتایا جاتا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ ’مکان کی مزید تلاشی لے رہا ہے‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس کےحوالے سے اب تک پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ لیکن، وہ اب ضمانت پر ہیں۔

ایم کیو ایم کی قیادت کی طرف سے جاری میڈیا بیان میں کہا گیا ہے کہ ’محمد انور کو سنٹرل لندن کی جیل میں لے جایا گیا ہے، جہاں قانونی امداد کی ٹیم ان کے ساتھ موجود ہے‘۔

اپنے ردِ عمل میں، ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات کے سلسلے میں پولیس سے مکمل تعاون کریں گے۔

منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اب تک منی لانڈرنگ کے شبے میں 5 دسمبر 2013ء میں انسدادا دہشت گردی کے یونٹ کی طرف سے چھاپے کے دوران دو افراد جن کی عمریں 73 اور 40 برس تھیں گرفتار کیا گیا تھا، جنھیں تفتیش کےبعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا؛ اور وہ اپریل تک ضمانت پر ہیں۔

گرفتاری کےبعد ضمانت پر رہا ہونے والے دیگر افراد میں ایک 61 سالہ ملزم کو 3 جون 2014ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ شخص بھی اپریل تک ضمانت پر رہا ہے۔

منی لانڈرنگ تحقیقات کے سلسلے میں ایک 41 سالہ شخص کو پولیس اسٹیشن میں تحقیقات کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتار کیا گیا، جبکہ پانچویں 27 سالہ ملزم کو پولیس اسٹیشن بلا کر عارضی طور پر حراست میں رکھا گیا۔

پولیس بیان کے مطابق، ایک شخص کا ضمانت پر رہائی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات جاری ہے، اور ضرورت پڑنے پر انھیں کبھی بھی پولیس اسٹیشن میں پیش ہونے کے احکامات دیے جا سکتے ہیں۔

میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ’مشتبہ افراد پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی؛ اور ’اس سے پہلے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی‘۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں میٹرو پولیٹن پولیس نے 2012ء میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الظاف حسین کی رہائش گاہ، ’ایجوئیر‘ پر چھاپہ مارا تھا، اور تلاشی کے دوران، نقد رقم اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لی تھیں؛ جس کے بعد، انسداد دہشت گردی کے یونٹ کی جانب سے دو مختلف کیسوں کی تحقیقات جاری ہے، جن میں ایک عمران فاروق قتل کیس جب کہ دوسرا منی لانڈرنگ کیس ہے۔

دہشت گردی کمان کی جانب سے منی لانڈرنگ کی چھان بین کی کاروائیوں کو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں پولیس کی جانب سے مارے گئے چھاپوں کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ ادھر، ایم کیو ایم کے رہنما اپنے قائد پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رہنما، ڈاکٹر عمران فاروق کو ستمبر 2010ء میں لندن کے علاقے گرین لین میں اس وقت چاقو سے پے در پے وار کرکے ہلاک کیا گیا تھا، جب وہ اپنے کام سے گھر واپس جا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG