رسائی کے لنکس

روس نے شام کے شہر حلب میں باغیوں کے زیر تسلط علاقوں پر منگل کو دوبارہ شدید بمباری کی ہے جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم "سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس" کے مطابق حالیہ دنوں میں یہاں ہونے والی یہ شدید ترین بمباری تھی۔

صدر بشار الاسد نے نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ فضائی حملوں میں کمی کی جائے گی تاکہ شہری حزب مخالف کے زیر تسلط علاقوں سے نکل سکیں۔

تاہم باغیوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

ادھر سرکاری خبر رساں ایجنسی صنا نے خبر دی ہے کہ باغیوں کی طرف سے حلب میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں کی گئی گولہ باری سے کم ازکم چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے۔

شام میں روس کی عسکری مہم پر امریکہ سمیت مغربی ممالک کی طرف سے نکتہ چینی کی جا رہی ہے اور خاص طور پر اسد حکومت کے مخالفین پر اس کی بمباری میں ہونے والی ہلاکتوں پر اسے بین الاقوامی طور پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

تاہم ماسکو یہ کہتا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں بشمول داعش کے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

منگل کو ہی روس کے صدر ولادیمر پوتن نے آئندہ ہفتے کے لیے طے شدہ اپنا دورہ پیرس منسوخ کر دیا تھا۔ فرانس کے صدر فرانسواں اولاند کا اصرار تھا کہ وہ اس دورے میں صدر پوتن سے صرف شام کی صورتحال پر ہی تبادلہ خیال کریں گے۔

XS
SM
MD
LG