رسائی کے لنکس

مجموعی طور پر، نتائج سے ظاہر ہوا کہ 'مئی' میں پیدا ہونے والے لوگوں میں بیماری کا خطرہ کم تھا اور جن کی سالگرہ 'اکتوبر' میں ہے ان کے لیے بیماریوں کا خطرہ زیادہ بڑا تھا

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا زائچہ شخصیت اور مستقبل کا ذمہ دار ہے، تو آپ سائنسدانوں کی بات سے اتفاق کریں گے جنھوں نے دریافت کیا ہےکہ آپ کے پیدائش کے موسم اور مستقبل کی صحت کے درمیان رابطہ ہے، اور یہ موسم سرما میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیےاچھی خبر نہیں ہے۔

کیا آپ کی تاریخ پیدائش آپ کی صحت کے لیےخطرہ بن سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں محققین کا کہنا ہے کہ آپ کی پیدائش کا مہینہ آپ کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے، اگرچہ سائنس دانوں کو اس بات کا یقین نہیں کہ یہ تعلق کیوں موجود ہے۔ لیکن، امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی عوامل اور وٹامن ڈی کی سطح اور درجہٴحرارت کا اتار چڑھاؤ اس تعلق کے لیے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر نتائج سے ظاہر ہوا کہ 'مئی'میں پیدا ہونے والے لوگوں میں بیماری کا خطرہ کم تھا اور جن کی سالگرہ 'اکتوبر' میں ہے ان کے لیے بیماریوں کا خطرہ زیادہ بڑا تھا۔

'کولیمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر' کے تحقیق کاروں نے پیدائش کے ماہ اور بیماریوں کے خطرے کے درمیان تعلقات کی تحقیقات کے لیے ایک کمپیوٹیشنل طریقہ کار دریافت کیا ہے۔

اس نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے نیویارک کے لوگوں کے طبی ڈیٹابیس کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے 'الگورتھ فارمولا (ماہر ریاضی اور الجبرا کےموجد محمد ابن موسیٰ الخوارزمی کا الگورتھم طریقہ کار یا حساب کتاب اور ڈیٹا پروسیسنگ کا فارمولے) کا استعمال کیا ہے، جس سے پتہ چلا ہےکہ مجموعی طور پر 55 بیماریاں پیدائش کے موسم کےساتھ منسلک تھیں۔

یہ تحقیق جریدہ 'جرنل آف امریکن میڈیکل انفارمیٹیکس ایسوسی ایشن'میں شائع ہوئی ہے۔

مطالعہ کے مصنف سینئر محقق ڈاکٹر نکولس ٹیٹو نیسی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار نئی بیماریوں کے خطرے کو فاش کرنے میں سائنس دانوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

تحقیق کاروں کے مطابق، اب تک جائزوں میں انفرادی بیماریوں مثلاً ADHD ہائیپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (دماغی صحت سےمتعلق بیماری) اور الرجی یا دمہ کےمرض کا پیدائش کےموسم کے ساتھ تعلق ظاہر ہوا تھا۔

بڑے پیمانے پر کی جانے والی تحقیق میں محققین نے 1688ء بیماریوں کا موازنہ پیدائش کی تاریخوں اور 1.7 ملین مریضوں کی طبی ہسٹری کے ساتھ کیا ہے۔

مطالعہ نے 1600 بیماریوں کے تعلقات کو مسترد کر دیا اور ان 39 بیماریوں کی تصدیق کی جنھیں ماضی میں پیدائش کے ماہ کےساتھ رپورٹ کی گئی تھیں۔

علاوہ ازیں، تحقیق کاروں نے مزید 16 بیماریوں کو بے نقاب کیا جو پیدائش کے موسم کے ساتھ منسلک تھیں اور ان میں دل کی نو مختلف بیماریاں بھی شامل تھیں۔

محققین نے کہا کہ نتائج کےحوالےسے گھبرانےکی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہمیں واضح تعلقات دکھائی دئیے ہیں۔ لیکن، مجموعی طور پر یہ خطرہ زیادہ بڑا نہیں ہے۔

ڈاکٹر نکولس نے کہا کہ پیدائش کے ماہ سے متعلق خطرہ زیادہ با اثر عوامل مثلاً غذا اور ورزش کے مقابلے میں نسبتاً معمولی ہے۔

نئے اعداد و شمار انفرادی بیماریوں کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ 'دمہ' کا خطرہ جولائی اور اکتوبر کے بچوں کے لیے زیادہ بڑا ہے، جبکہ ڈنمارک کا ایک پچھلہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دمہ کا خطرہ وہاں مئی سے اگست میں زیادہ ہے جب ڈنمارک میں سورج کی روشنی کی سطح بالکل ویسی تھی جیسی نیویارک میں جولائی اور اکتوبر میں ہوتی ہے۔

اسی طرح 'ایڈی ایچڈی' کے لیے محققین کے اعد و شمار نے تجویز کیا کہ 675 میں سے ایک واقعات نومبر میں پیدا ہونے والے بچوں کے ساتھ منسلک تھے، جبکہ یہ مطالعہ سویڈش مطالعہ سے میل کھاتا ہے، جس میں ظاہر ہوا تھا کہ یہ مرض وہاں بھی نومبر کے بچوں میں زیادہ ہے۔

محققین کو پیدائش کے ماہ اور دل کی نو مختلف بیماریوں کے درمیان ایک تعلق ملا ہے جس کے مطابق مارچ میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے عارضہ قلب ایٹریل فائبرلیشن (دل کا معمول سے زیادہ دھڑکنا جس میں دل ایک منٹ میں 140 بار دھڑکتا ہے) کا خطرہ زیادہ بڑا ہے۔ اس کے علاوہ ان بچوں میں دل کی ناکامی اور والو کی خرابی کا خطرہ زیادہ سنگین تھا۔

انھوں نے کہا کہ40 میں سے ایک ایٹریل فائبرلیشن کے واقعات کو مارچ کے موسمی اثرات سے متعلق کہا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ایک مطالعے میں آسٹریا اور ڈنمارک کے مریضوں کے ریکارڈ سے پتہ چلا تھا کہ وہاں جو لوگ مارچ میں پیدا ہوئے تھے ان میں دل کے مرض کی شرح زیادہ تھی، اور ان کی حیات مختصر تھی۔

مطالعہ کے نگراں محقق ڈاکٹر میری ریجائنا بولنڈ انھوں نے کہا کہ تیز رفتار کمپیوٹر اور الیکٹرونک طبی ڈیٹا نے دریافت کی رفتار کو تیزکر دیا ہے، جبکہ انھوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کی مدد سے ہم طبی مسائل کے حل میں ڈاکٹروں کی مدد کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG