رسائی کے لنکس

صوبہٴسندھ میں ایک ہفتے کے دوران 300 سے زیادہ مور ہلاک ہوچکے ہیں۔ اموات کا یہ سلسلہ پچھلے دو سال سے جاری ہے اور کوشش کے باوجود اب تک انہیں موت کے منہ میں جانے سے روکا نہیں جاسکا ہے

سندھ کا خوب صورت پرندہ ۔۔مور۔۔ پچھلے دو سالوں سے مسلسل موت کے شکنجے میں ہے اور کوششوں کے باوجود گرفت سے آزاد نہیں ہو سکا ہے۔ جمعہ کو بھی 11 مور لقمہٴاجل بن گئے، جبکہ محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران موروں کی ہلاکتوں کی تعداد 300 سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔

ہلاکتوں کا سبب موروں میں پھیلنے والے بیماری ’رانی کھیت‘ کو قرار دیا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو سندھ کی تحصیل ڈیپلو، نگر پارکر اور اسلام کوٹ کے قریبی دیہات سے 11 موروں کی ہلاکت کی اطلاعات ملیں۔

حکام کے مطابق، موروں کے تحفظ کے لئے تمام دستیاب وسائل استعمال میں لائے جارہے ہیں۔ تاہم، مقامی افراد اس بات سے انکاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موروں کے تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات ادھورے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے کی جانب سے واقعات کی بنیاد پر جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق، تھر کی تحصیل ڈپیلو وہ علاقہ ہے جس کے قریبی دیہات میں رواں سال اپریل میں بھی دو مختلف دنوں میں تقریباً 40مور ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ سینکڑوں پروندوں کو محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے بیمار قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں، فروری میں پڑنے والی خشک سالی اور قحط کے دوران بھی درجنوں پرندے خاص کر مور ہلاک ہوگئے تھے۔ علاقہ مکینوں کو اس وقت بھی دواوٴں کی قلت تھی اور وہ اپنے طور پر انسانوں کے استعمال میں رہنے والی ’پین کلر ٹیبلٹس‘ سے موروں کا اپنے طور پر علاج کر رہے تھے۔

سندھ کے وزیر جنگلی حیات و جنگلات، گیان چند عیسانی کا کہنا ہے کہ محکمہ موروں کی اموات سے بخوبی واقف ہے۔ اصل مسئلہ دواوٴں کی عدم دستیابی کا نہیں، بلکہ خوراک کا ہے۔ پرندے بہت لاغر ہیں، کمزوری کے سبب ان پر دوائیں بے اثر ثابت ہورہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG