رسائی کے لنکس

گذشتہ برسوں کے دوران بڑی تعداد میں ڈاکٹر، سائنسدان، اساتذہ اور کمپنیوں کے ایگزیکٹیو برطانیہ چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہوگئے ہیں: ذرائع

برطانیہ میں ہجرت کے حوالے سے کی جانے والی بحث عام طور پربرطانیہ میں تارکین وطن کی آمد اور تعداد کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

تاہم امیگریشن کے حق میں دلائل دینے والوں کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافہ اور پبلک سیکٹر کی سہولیات میں کمی جیسے مسئلے پر قابو پانے کے لیے برطانیہ کو بیرون ملک کے تعلیم یافتہ ہنرمند اور پیشہ ورافراد کی اشد ضرورت ہے۔

دوسری جانب، جب ہرسال برطانوی شہریوں کی ایک بڑی تعداد عالمی لیبرمنڈی کی پر کشش ملازمت کی خاطر برطانیہ کو خیرباد کہہ کر بیرون ملک منتقل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں برطانیہ میں ہنرمند اور پیشہ ورنوجوانوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

اس صورتحال کا مفصل جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہتر معیار زندگی اور موسم کے ساتھ ساتھ ملازمت میں ترقی کے مواقع چند ایسی وجوہات رہی ہیں جن کی وجہ سےگذشتہ برسوں میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، سائنسدان، اساتذہ اور کمپنیوں کےایگزیکٹیو برطانیہ سے ترک وطن کرکے بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں۔

​ برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کی خبر کے مطابق ، گذشتہ ہفتے حزب اختلاف جماعت کنزرویٹیو سے تعلق رکھنے والے وزیر نک ڈی بوائس نے لیبرمارکیٹ کو درپیش خطرہ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی لیبرمارکیٹ تعلیم یافتہ انتہائی ہنرمند اورپیشہ ور افراد کی قلت کا شکار ہےاس مسئلے پر قابو پانے کےلیےحکومت جلد ازجلد اقدامات کرے ۔ان کا یہ بیان اسوقت سامنے آیا ہے جب ایک سرکاری رپورٹ کے اعدادوشمارمیں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برسوں کےمقابلے میں پچھلے سال سب سے زیادہ بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہنرمند برطانیہ سے ہجرت کر کے بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں۔

قومی شماریات کے دفتر(ONS)سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تقریبا 400 برطانوی باشندے یا کل 154,000 افراد بہتر رہائش زندگی کی تلاش میں برطانیہ سے ہجرت کر کے دیارغیرجا بسے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ، بیرون ملک ہجرت کرنے والوں میں برطانوی نژاد شہریوں کی تعداد تقریبا ایک لاکھ تھی جبکہ ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ ، برطانیہ سے ہجرت کرنے والےتارکین وطن اوربرطانوی نژاد افراد کی تعداد لگ بھگ برابر ہو گئی ہے جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ،ہجرت کرنے والوں میں بڑی تعداد ان نوجوانوں کی ہے جن کی عمریں 25 برس سے 44 برس کے درمیان ہے ۔


رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ، برطانیہ کی بہترین یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے والے نوجوان بیرون ملک ملازمت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں سال 2011 کے اعدادوشمار کے مطابق ، آکسفورڈ یا کیمبرج جیسی بہترین یونیورسٹیوں سےتعلیم مکمل کرنے والا ہردس میں سے ایک نوجوان برطانیہ سے باہر ملازمت کر رہا ہے ۔

جبکہ ایک برطانوی ادارے 'آرگنائزیشن فار اکنامکس کوآپریشن اینڈ ڈیولپمینٹ' کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل تقریبا تیرہ لاکھ گریجویٹس بیرون ملک رہائش اختیار کرچکے ہیں اوریہ تعداد کسی بھی ترقی یافتہ معیشت چھوڑ کر جانے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔بتایا گیا ہے کہ جرمنی سے ہجرت کرنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد تقریبا پچاسی ہزار ہے جبکہ امریکہ گریجویٹس جو بیرون ملک رہائش رکھتے ہیں ان کی تعداد لگ بھگ چار لاکھ ہے۔

وفاقی وزیرنک ڈی بوائس کا کہنا تھا کہ ،'' ہنرمندوں کی قلت کے مسئلے سے نبٹنے کے لیےحکومت کو انھیں پرکشش ملازمت اورمراعات کی پیشکش کرنی چاہیےتاکہ وہ برطانیہ چھوڑنے کا خیال دل سے نکال دیں ۔ ''

XS
SM
MD
LG