رسائی کے لنکس

مراکش بم دھماکے کے پیچھے القاعدہ ہے، وزیرداخلہ


مراکش بم دھماکے کے پیچھے القاعدہ ہے، وزیرداخلہ

مراکش بم دھماکے کے پیچھے القاعدہ ہے، وزیرداخلہ

مراکش کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے بم دھماکے میں بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے القاعدہ ملوث ہے۔ ایک کیفے میں ہونے والے اس دھماکے میں 10غیر ملکیوں سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیر داخلہ نے جمعہ کو رات دیر گئے صحافیوں کو بتایا کہ ریموٹ کنٹرول سے یہ بم دھماکا اُسی انداز میں کیا گیا جیسے عام طور پر دہشت گرد تنظیمیں اس طرح کے حملے کرتی ہیں۔

اہم سیاحتی علاقے کے جماع الفناچوک میں واقع دو منزلہ کیفے کی عمارت اس دھماکے سے بری طرح متاثر ہوئی۔ یہ چوک شہر کے قلب میں واقع ہے اور یہاں سیاحوں کی بھیٹر رہتی ہے اور بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں سے اکثریت فرانسیسی شہریوں کی تھی۔

مراکش میں 2003ء میں بھی انتہا پسندوں نے حملے کر کے تباہی مچادی تھی ان حملوں میں 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں 12 خودکش بمبار بھی شامل تھے ۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بم دھماکے کو ایک بذدلانہ کارروائی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے اور اس حملے کی تحقیقات کے لیے مراکش کو امریکی تعاون کی پیش کش بھی کی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس دھماکے میں ہونے والی ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی وحشیانہ کارروائی کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

XS
SM
MD
LG