رسائی کے لنکس

اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرنے کے بعد، مزاحیہ فنکار، بسام یوسف کو رہا کیا گیا۔ اِن الزامات پر امریکہ کی طرف سے سخت تنقیدی بیانات سامنے آئے، جن میں مصر کی حکومت پر، جو کہ ایک کلیدی فوجی اتحادی ہے، آزادیٴ اظہار کو کچلنے کا الزام لگایا گیا۔

مصر کے اعلیٰ عدالتی ادارے نے استغاثے کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جنھیں ملک کے صدر محمد مرسی نے تعینات کیا تھا، جو بات عرب دنیا کے اس سب سے کثیر آبادی والے ملک میں خلفشار کی تازہ ترین مثال ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا کہ چیف پرازیکیوٹر طلعت عبد اللہ کو عدلیہ کے اتحاد کی خاطر جج کے طور پر اپنے پرانے عہدے پر واپس بھیجا جائے۔

مصر کی حزبِ مخالف کا زیادہ تر طبقہ عبد اللہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا آیا ہے، جِس نے اُن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسٹر مرسی اور صدر کی اخوان المسلمون تحریک کے ناقدین کے ساتھ غلط سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔

عبداللہ کے دفتر کی طرف سے گذشتہ مہینے معروف طنزیہ سیاسی پروگرام کے میزبان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ اُنھوں نے صدر اور اسلام کی توہین کی ہے۔

اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرنے کے بعد، مزاحیہ فنکار، بسام یوسف کو رہا کیا گیا۔ اِن الزامات پر امریکہ کی طرف سے سخت تنقیدی بیانات سامنے آئے، جن میں مصر کی حکومت پر، جو کہ ایک کلیدی فوجی اتحادی ہے، آزادیٴ اظہار کو کچلنے کا الزام لگایا گیا۔

جب دسمبر میں استغاثے کے سربراہ کے طور پر عبد اللہ کا نام لیا جانے لگا، تو متعدد ججوں اور استغاثے کے وکلا نےاُن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ احتجاج کا یہ نتیجہ نکلا کہ اُنھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا، لیکن بعدازاں اُنھوں نے اِسے واپس لے لیا اور عہدے پر براجمان رہے۔

مصر کی اپیل کی عدالت نے گذشتہ ماہ اُس صدارتی حکم نامے کو کالعدم قرار دیا جس کے ذریعے اُن کو تعینات کیا گیا تھا، اور اِس طرح، مسٹر عبداللہ کو نکالنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے اس عدالتی فیصلے کو نہ مان کر عدالت کی حکم عدولی بھی کی ہے۔

اتوار کے روز حکومت کے ملک کے اکثریتی مسلمانوں اور اقلیتی عیسائیوں سے تعلقات بھی تناؤ کا شکار رہے۔
XS
SM
MD
LG