رسائی کے لنکس

مصر: صدر مرسی کا مستعفی ہونے سے انکار، بحران سنگین


قاہرہ کے تحریر اسکوائر کا منظر جہاں صدر مرسی کے ہزاروں مخالفین جمع ہیں

قاہرہ کے تحریر اسکوائر کا منظر جہاں صدر مرسی کے ہزاروں مخالفین جمع ہیں

صدر مرسی کی جماعت 'اخوان المسلمون' کے رہنمائوں نے کسی ممکنہ فوجی مداخلت کی سخت مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے حزبِ اختلاف کی حکومت مخالف تحریک اور فوج کی جانب سے سیاسی بحران حل نہ ہونے کی صورت میں مداخلت کے انتباہ کے باوجود مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔

حزبِ اختلاف نے صدر مرسی کو مستعفی ہونے کے لیے منگل کی شام پانچ بجے تک کی مہلت دی تھی جس کے گزرنے کے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد دارالحکومت قاہرہ کے تحریر چوک پر جمع ہے۔

صدر کی حمایت میں ان کے ہزاروں حامی بھی دارالحکومت کے علاقے نصر سٹی میں جمع ہورہے ہیں جس کے باعث مظاہرین کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ملک میں کئی روز تک جاری رہنے والے پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں میں 16 افراد کی ہلاکت کے بعد پیر کو وزیردفاع اور مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے حکومت اور حزب مخالف کو معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔

فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اگر دی گئی مہلت میں سیاست دان بحران کے کسی سیاسی حل تک پہنچنے میں ناکام رہے تو فوج "ملک کے مستقبل کے لیے اپنا لائحہ عمل پیش کرے گی"۔

مصر کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق سیاسی تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں مصری فوج کے افسران آئین معطل کرنے، پارلیمان تحلیل کرنے اور ایک عبوری انتظامیہ تشکیل دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس سیاسی بحران کے پسِ منظر میں صدر مرسی نے منگل کو فوج کے سربراہ سے ملاقات بھی کی جو دونوں رہنمائوں کی گزشتہ دو دنوں میں دوسری ملاقات تھی۔

اس سے قبل صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر فوج کی جانب سے دیے جانے والے انتباہ کو مسترد کرتے ہیں۔

منگل کو صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ جناب مرسی ’’شہریوں کی تقسیم کو مزید گہرا کرنے والے بیانات‘‘ سے قطع نظر قومی مصالحت کے اپنے منصوبے پر کاربند رہیں گے۔

صدر مرسی کی جماعت 'اخوان المسلمون' کے رہنمائوں نے بھی کسی ممکنہ فوجی مداخلت کی سخت مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اخوان کے رہنمائوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایک منتخب رہنما کے خلاف فوجی بغاوت کی صورت میں ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہوں گے اور "شہادت" کو ترجیح دیں گے۔

اخوان نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے فوج کے بیان کے خلاف اور مصری صدر کی حمایت میں سڑکوں پر آنے کی اپیل کی ہے جس کے بعد ملک کے کئی شہروں میں حکمران جماعت کے کارکن مظاہرے کر رہے ہیں۔

مصر کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتِ حال کے پیشِ نظر امریکہ کے صدر براک اوباما نے صدر مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مخالف مظاہرین کے تحفظات کا خیال رکھیں۔

'وائٹ ہاؤس' کے مطابق منگل کو صدر اوباما نے جناب مرسی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کہا کہ امریکہ مصر میں جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ انھیں مصر میں تشدد خصوصاً خواتین کے خلاف جنسی تشدد پر سخت تشویش ہے۔

برطانیہ اور جرمنی نے بھی مصر کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے اختلافات ددور کریں۔

مصر کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیاسی بحران شدید ہونے کے بعد ملک کے وزیرِ خارجہ محمد کمال امر نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

وہ اتوار کو شروع ہونے والے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے بعد مستعفی ہونے والے چوتھے وزیر ہیں۔
XS
SM
MD
LG