رسائی کے لنکس

مورسی کے وسیع تر اختیارات سنبھالنے پر امریکہ کی تشویش


ہلری کلنٹن اور محمد کامل امر (فائل فوٹو)

ہلری کلنٹن اور محمد کامل امر (فائل فوٹو)

پیر کے روز امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نےمصر کے وزیر خارجہ محمد کامل امرسے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور مورسی کی طرف سے اپنے لیے وسیع تر اختیارات تفویض کرنے کے معاملے پر گفتگو کی

امریکہ نے مصر کے صدر محمد مورسی کی طرف سے وسیع تر اختیارات سنبھالنے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ کسی فردِ واحد کے پاس بے انتہا اختیارات ہوں۔

صدر کے فرمان کے نتیجے میں مخالفین سے تعلق رکھنےو الے سرگرم کارکنوں نے احتجاج کا راستا اپنایا ہے، اور وہ صدر مورسی سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور پیر کو چوتھے روز بھی اُنھوں نے قاہرہ کے تحریر چوک پر خیمے گاڑ کر احتجاج جاری رکھا۔

پیر کے روز امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نےمصر کے وزیر خارجہ محمد کامل امرسے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور مورسی کی طرف سے اپنے لیے وسیع تر اختیارات تفویض کرنے کے معاملے پر گفتگو کی۔

محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نُلینڈ نے بتایا ہے کہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ اِس قسم کے تنازعات کے حل کے سلسلے میں امریکہ جمہوری طور طریقے اختیار کرنے کے راستے کو اہمیت دیتا ہے۔

اُن کے بقول، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل اِس طرح پروان چڑھے کہ اِس سے کسی فردِ واحد میں بہت زیادہ اختیارات مرتکز نہ ہوں، اور اِس طرح قانون کی حکمرانی، احتساب اور توازن کے عمل، اور مصر کے تمام گروپوں کے حقوق کی بالا دستی کو تحفظ فراہم ہو۔

مصر کے ججوں کو توقع ہے کہ گذشتہ ہفتے اپنے لیے حاصل کردہ وسیع تر اختیارات کو حد کے اندر رکھنے کے معاملے پر وہ صدر کو قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مورسی کا کہنا ہے کہ عدالتی نظرِ ثانی کے بارے میں اُن کا فیصلہ عارضی نوعیت کا ہے۔

پیر کو اُنھوں نے مصر کی سپریم جوڈیشل کونسل سے ملاقات کرکے اپنا مؤقف واضح کرنے کی کوشش کی۔ نُلینڈ کا کہنا ہے کہ یہ بات حوصلہ کُن ہے۔

اُن کے بقول، یہ ایک اچھا ا قدام ہے کہ متعلقہ فریق ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہیں۔ لیکن، ظاہر ہے ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ یہ معاملہ اس طریقے سے حل ہو کہ مصر کے انقلاب کے آغاز سے لے کر ہم جن باتوں کے حامی رہے ہیں کہ اعلیٰ معیار اور اصولوں کو اولیت دی جائے اُن کی بالادستی ہو۔

صدر کے وسیع تر اختیارات سنبھالنے کے خلاف قاہرہ میں نکلنے والی ریلیوں نے اپوزیشن کو بانٹ کر رکھ دیا ہے، جس میں سے اُن کے کچھ مخالفین نئے صدر کی خواہش کو، اُن کے بقول، ’ ایک نئے فرعون‘ بننے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

نُلینڈ نے کہا کہ مصر میں انقلاب کے بعد کے جمہوری دور میں قابلِ عمل قانون ساز ادارے کی عدم موجودگی ’ایک غیر واضح سیاسی ماحول ‘ کا سماں پیش کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قانونی اور آئینی اعتبار سے یہ ایک نہایت ہی دھندلا، غیر یقینی وقت ہے، جو اس بات کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے کہ یہ عمل جمہوری مکالمے اور مشاورت کی بنیاد پر آگے بڑھے۔

محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ صدر مورسی کے فیصلے کے نتیجے میں کہیں امریکہ کی طرف سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی معاونت کی کوششیں متاثر تو نہیں ہوں گی۔

وزیر خارجہ امر سے گفتگو کے دوران، وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے غزہ کے علاقے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بارے میں بھی بات کی۔
XS
SM
MD
LG