رسائی کے لنکس

مورٹینسن کا معمّہ: ستائش سے الزامات تک کا سفر

  • عمیر ریاض

مورٹینسن کا معمّہ: ستائش سے الزامات تک کا سفر

مورٹینسن کا معمّہ: ستائش سے الزامات تک کا سفر

آج کل امریکی میڈیا میں ایک اسکینڈل کا خوب چرچا ہے۔ یہ اسکینڈل ہے وسطِ ایشیائی ریاستوں میں بچوں کی تعلیم کے سب سے بڑے حامی کی حیثیت سے عالمی شہرتِ یافتہ مصنف اور سماجی کارکن گریگ مورٹینسن کے متعلق جس کے باعث وہ آج کل اتنے پریشان ہیں کہ انہیں دل کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے۔

53 سالہ مورٹینسن ایک سابق کوہ پیما ہیں اور انہیں پاکستان اور افغانستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کیلیے کی جانے والی ان کی کوششوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

انہوں نے 1993ء میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو" سر کرنے کے ارادے سے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ وہ اپنے ایک ساتھی کوہ پیما کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے باعث 'کے ٹو' تو سر نہ کر سکے تاہم اس سفر کے بعد انہوں نے کامیابیوں اور شہرت کے ایک نئے سفر کا آغاز ضرور کیا۔

اس سفر کے بعد مورٹینسن نے 90 کی دہائی میں تعلیم کیلیے کام کرنے والی ایک خیراتی تنظیم 'پینیز فار پیس' اور 'سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ' نامی ایک غیر منافع بخش ادارہ کی بنیاد رکھی اور وہ ان دونوں اداروں کے کرتا دھرتا کی حیثیت سے گزشتہ ہفتے تک ایک پرسکون اور باعزت زندگی گزار رہے تھے۔

2006ء میں مسٹر مورٹینسن نے اپنی آپ بیتی "تھری کپس آف ٹی" (چائے کے تین کپ) کے نام سے لکھی تھی جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔'نیو یارک ٹائمز' کی جانب سے 'بیسٹ سیلر' قرار دی گئی اس کتاب کی اب تک 50 لاکھ سے زائد جلدیں فروخت ہوچکی ہیں۔ کتاب کی تشہیری مہم کے ذریعے مورٹینسن اپنے خیراتی مشن کیلیے 6 کروڑ ڈالرز سے زائد کا چندہ اکٹھا کیا تھا۔

مذکورہ کتاب میں مورٹینسن نے اپنے پہلے سفرِ پاکستان اور اس کے بعد اس علاقے میں ان کی دلچسپی اور وہاں انجام دی گئی اپنی کرشماتی سماجی خدمات کی تفصیلات بیان کی تھیں جس نے انہیں عالمی سطح پر ایک ہیرو کا درجہ دے دیا تھا۔

مورٹینسن کے قائم کردہ 'سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ' کے دعویٰ کے مطابق مورٹینسن نے اس ادارے کے تحت پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور ان سے ملحقہ افغان علاقوں میں 171 اسکول قائم کیے جن سے اب تک 54 ہزار طالبات سمیت کل 64 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔

مورٹینسن کی ان خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2009ء میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز 'ستارہ پاکستان' عطا کیا گیا۔ جبکہ تعلیم کیلیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2009ء اور 2010ء کے 'نوبیل امن انعام ' کیلیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

تنازعہ کے آغاز

تاہم گزشتہ اتوار کو امریکی ٹی وی چینل 'سی بی ایس' کے پروگرام '60 منٹ' میں پیش کی گئی ایک رپورٹ نے مورٹینسن کی کتاب میں کیے گئے ان کے دعووں اور ان کی سماجی خدمات کو حقیقت کے برخلاف قرار دیتے ہوئے انہیں مالی بدعنوانی کا مرتکب ٹہراکر میڈیا اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچادی۔

اسٹیو کرافٹ کی تیار کردہ اس تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مورٹینسن کے خیراتی ادارے نے پاکستان اور افغانستان میں موجود ان اسکولوں کی تعمیر کا کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کی ہے جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں یا انہیں کسی اور ادارے یا تنظیم نےقائم کیا ہے۔

پروگرام کی تحقیقاتی ٹیم کے دعویٰ کے مطابق انہوں نے ان 30 اسکولوں کا جائزہ لیا جن کی تعمیر کا دعویٰ مسٹر مورٹینسن کے ادارے نے کیا تھا۔ ان اسکولوں میں سے آدھے سے زیادہ اسکول ایسے تھے جو یاتو خالی تھے یا انہیں کسی اور ادارے نے تعمیر کیا تھا۔

مورٹینسن نے 1993ء میں کیے گئے اپنے سفرِ پاکستان کی جو روداد بیان کی تھی، '60 منٹ' کی تحقیق کے مطابق وہ بھی درست نہیں۔ مورٹینسن کے دعویٰ کے مطابق وہ 1993ء میں 'کے ٹو' سے واپسی پر راستہ بھٹک کر کورپھے نامی ایک دور دراز پاکستانی گائوں میں جا نکلے تھے۔

ان کے بقول اس گائوں کے باسیوں نے ان کی اتنی مہمان نوازی کی کہ انہوں نے وہاں سے رخصت ہوتے وقت گائوں والوں سے واپس آنے اور وہاں ایک اسکول تعمیر کرنے کا وعدہ کرلیا۔مورٹینسن کے بقول یہی وعدہ ان کی سماجی خدمات کا نکتہ آغاز ثابت ہوا اور اس کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے آئندہ تین برسوں تک انہوں نے اس علاقے کے مسلسل کئی دورے کیے۔

تاہم '60 منٹ' نے مورٹینسن کے بیان کردہ اس سفر میں ان کا ساتھ دینے والے دو پورٹرز سے گفتگو کی تو تصویر کا ایک اور ہی رخ سامنے آیا۔ پورٹرز کے بقول مورٹینسن کے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں کہ وہ 'کے ٹو' سے واپسی پر راستہ بھول گئے تھے۔ پورٹرز کے بقول مورٹینسن نے کھورپے کا پہلا دورہ 1994ء میں کیا تھا اور اس سے قبل وہ اس علاقے میں کبھی نہیں گئے تھے۔

مورٹینسن نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں 1996ء میں پاکستان کے علاقے وزیرستان میں طالبان نے اغواء کرلیا تھا۔ اپنے دعویٰ کے ثبوت کے طور پر مسٹر مورٹینسن نے اپنی کتاب میں ایک تصویر بھی شائع کی تھی جن میں وہ چار قبائلی افراد کے ہمراہ موجود تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں کلاشنکوفیں اٹھا رکھی تھیں۔

تاہم '60 منٹ' کے مطابق اس کی ٹیم نے تصویر میں موجود دو افراد سے رابطہ کیا جنہوں مورٹینسن کے بیان کی تردید کی۔ پروگرام نے تصویر میں دکھائے گئے منصور خان محسود نامی شخص کا انٹرویو بھی نشر کیا جو اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک میں ریسرچ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

'60 منٹ' سے گفتگو میں منصور خان نے مورٹینسن کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تصویر میں موجود افراد نے مورٹینسن کو اغواء نہیں کیا تھا بلکہ وہ ان کی حفاظت پر مامور تھے۔ انہوں نے مورٹینسن کے اغواء ہونے سے متعلق بیان کو مکمل طور پر غلط اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

بعد ازاں ایک امریکی جریدہ سے گفتگو میں منصور خان کا کہنا تھا کہ وہ جھوٹا الزام عائد کرنے پر مورٹینسن کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کرینگے۔

'60 منٹ' تیار کرنے والے صحافی اسٹیو کرافٹ نے اپنے پروگرام میں یہ انکشاف بھی کیا کہ 'سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ' کے اپنے آڈیٹرز نے خبردار کیا تھا کہ اگر کسی وفاقی اتھارٹی کی جانب سے ادارے کا آڈٹ ہوا تو مورٹینسن مشکل میں پڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ اس خیراتی ادارے سے ناجائز فوائد اٹھانے کے مرتکب ہورہے ہیں۔ کرافٹ نے مورٹینسن پر 'سی اے آئی' کے فنڈز کو اپنی کتابوں کی تشہیر کیلیے استعمال کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

مرے پہ سو درّے

سی بی ایس کے پروگرام کے بعد ایک اور سابق امریکی کوہ پیما اور صحافی اور "اِن ٹو تِھن ایئر" نامی کتاب کے مصنف جان کریکر بھی مورٹینسن کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔

ویب سائٹ "بائی لائنر" پہ جاری کیے گئے اپنے ایک مضمون میں کریکر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ماضی میں خود بھی مورٹینسن کے ایک بڑے مداح رہے ہیں اور انہوں نے مورٹینسن کے ادارے کیلیے اپنی جیب سے 75 ہزار ڈالرز کا عطیہ بھی دیا تھا۔ تاہم ان کے بقول "جب میں نے یہ دیکھا کہ موصوف خیراتی چندے کو اپنی کتاب کی تشہیر اور ذاتی مقاصد کیلیے استعمال کررہے ہیں تو میں نے ان سے رابطے منقطع کرلیے"۔

75 صفحات پر مشتمل اپنے طویل مضمون میں کریکر نے مورٹینسن پر ان کے خیراتی اداروں کو ملنے والے چندے کے ذاتی استعمال، مداحوں کے جذبات مجروح کرنے، اپنی کتابوں میں حقائق کے برخلاف واقعات کے اندراج اور اپنے سماجی کارناموں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے سمیت کئی اور الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

مورٹینسن کا ردِعمل

گریگ مورٹینسن نے خود پر عائد کردہ مذکورہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ اپنی کتاب میں لکھا ہے وہ اس پر قائم ہیں۔ انہوں نے 1993ء کے دورہ کھورپہ، 1996ء میں اپنے اغواء ہونے اور اپنے ادارے کی جانب سے قائم کردہ اسکولوں کی تعداد کے درست ہونے پر بھی اصرار کیا ہے۔

انہوں نے 'سی بی ایس' ٹی وی کے پروگرام کو ریٹنگ بڑھانے کا ایک حربہ قرار دیا اور خود پر تنقید کرنے والوں کو خبردار کیا کہ ان کے اس عمل سے ان "کئی ہزار طالبات کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے" جو ان کے بقول ان کے قائم کردہ اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

مورٹینسن کی مشکلات میں اضافہ

حالیہ انکشافات کے بعد مورٹینسن کی شہرہ آفاق کتاب 'تھری کپس آف ٹی' کے ناشر ادارے 'وائکنگز' نے کہا ہے کہ وہ 'سی بی ایس' کی جانب سے کتاب کے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کی چھان بین کیلیے مصنف کے ساتھ مل کر کتاب کے مندرجات کا جائزہ لے گا۔

منگل کے روز ادارے کی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "60 منٹ ایک اہم اور سنجیدہ نیوز شو ہے اور اس کی دی گئی رپورٹ کے بعد 'وائکنگز' نے مصنف کے ساتھ مل کر کتاب کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

ادھر امریکی ریاست مونتانا کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ان کا محکمہ مورٹینسن کی جانب سے اپنے خیراتی ادارے کے فنڈز استعمال کرنے کے معاملہ کی تحقیقات شروع کر رہا ہے۔

منگل کے روز امریکی خبر رساں ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیو بل آک کا کہنا تھا کہ چونکہ مورٹینسن کا قائم کردہ 'سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ' ان کی ریاست کی حدود میں واقع ہے لہذا یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں کہ آیا اس ادارے کو عطیہ کی گئی رقم بیان کردہ مقاصد کیلیے ہی استعمال کی گئی ہے یا نہیں۔

سب کچھ جھوٹ نہیں۔۔۔

الزامات کی اس بوچھاڑ میں کئی افراد مسٹر مورٹینسن کی حمایت میں بھی آگے آئے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ تعلیم کیلیے مورٹینسن کی خدمات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جانا درست نہیں۔

'نیو یارک ٹائمز' کے کالم نگار نکولس ڈی کرسٹوف نے اتوار کے روز سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ 'ٹوئٹر' پر اپنے ردِ عمل میں گریگ مورٹینسن سے متعلق انکشافات کو 'مایوس کن' قرار دیا ہے۔ کرسٹوف کے دعویٰ کے مطابق انہوں نے مورٹینسن کے افغانستان میں قائم کردہ دو اسکولوں کا بذاتِ خود دورہ کیا ہے جو ان کے بقول 'زبردست' تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' نے بھی بدھ کے روز اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی علاقے گلگت-بلتستان کے ایک مقامی سیاستدان کے حوالے سے کہا ہے کہ مسٹر مورٹینسن کو مذکورہ علاقے میں ان کے قائم کردہ اسکولوں کے باعث مقامی آبادی میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

'بی بی سی' سے گفتگو میں گلگت-بلتستان کے مقامی سیاستدان عمران ندیم شگری نے دعویٰ کیا کہ مسٹر مورٹینسن کے ادارے 'سی اے آئی' نے علاقے میں نہ صرف کئی تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں بلکہ کئی اداروں کو مالی مدد بھی فراہم کی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

فی الحال یہ تو واضح نہیں کہ کہ الزامات کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، تاہم اس تنازعے کے دوران مسٹر مورٹینسن کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال مننتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا آپریشن متوقع ہے۔ 'سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ' کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق علالت کے باعث مسٹر مورٹینسن آئندہ کچھ روز تک میڈیا کو دستیاب نہیں ہونگے۔

XS
SM
MD
LG