رسائی کے لنکس

ماسکو کی ’وی او ای‘ کی رپورٹ سے متعلق غلط بیانی پر معذرت


روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف (فائل فوٹو)

وی او اے کی ڈائریکٹر امانڈا بینیٹ نے کہا کہ لاوروف کو وی او اے کی رپورٹنگ کے بارےمیں غلط فہمی ہوئی۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے وائس آف امریکہ کے ایک نامہ نگار کی رپورٹ سے متعلق وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے بیان پر معذرت کی ہے۔

منگل کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران روسی وزیر خارجہ نے وائس آف امریکہ کی رپورٹ سے متعلق اس طرح غلط بیانی کی جس سے بظاہر ادارے کی ساکھ کو کمزور کرنا تھا۔

لاوروف کے بیان کے چند گھنٹوں کے بعد ماریا زخاروف نے وائس آف امریکہ کے ماسکو میں کام کرنے والے روسی سروس کے ایک نامہ نگار دنیلا گلپروچ کے فیس بک صفحے پر اپنی معذرت پوسٹ کی۔

ماسکو میں اپنی نیوز کانفرنس کے دوران لاوروف نے نامہ نگار گلپروچ کی چھ جنوری کی ایک رپورٹ پر تنقید کی جس میں کہا گیا کہ روسی عہدیداروں نے امریکہ کی انٹلیجنس کے اداروں کے ان مفصل الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے کہ روسی ہیکروں نے امریکہ کی صدراتی مہم میں مداخلت کی تھی۔

امریکی عہدیداروں نے روسی ہیکنگ کے الزامات کے ثبوت امریکی سینیٹروں کو جنوری کے پہلے ہفتے میں پیش کیے تھے جب کہ ان کی مفصل تفصیل ذرائع ابلاغ کو چھ جنوری کو جاری کی گئی تھی اور اسی دن عہدیداروں نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں اس بارے میں تفیصلی بریفنگ دی۔

لاوروف نے منگل کو نیوز کانفرنس میں کہا کہ وائس آف امریکہ کہ یہ رپورٹ نو جنوری کو شائع ہوئی اور اسی دن روسی عہدیداروں نے امریکہ کے الزامات پر باضبابطہ طور پر پہلی بار اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں" مکمل چھوٹ قراردیا۔" وزیر خارجہ نے روسی ردعمل کو رپورٹ نا کرنے پر وائس امریکہ پر تنقید کی۔

وزیر خارجہ نے وائس آف امریکہ کی روسی سروس کے رپورٹر گلپروچ پر امریکہ کی انٹلیجنس رپورٹ سے متعلق غلط بیانی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ایک ایسے ادارے کی "ردی" رپورٹ قرار دیا جسے امریکہ کا محکمہ خارجہ فنڈ فراہم کرتا ہے۔"

لاوروف نے کہا کہ "اس معاملے میں گلپروچ جھوٹ بول رہے تھے کیونکہ جب اس نے یہ رپورٹ دی (کئی روسی عہدیدار) ردعمل دے چکے تھے۔"

امریکہ کے انٹلیجنس اداروں کی طرف جاری کی گئی رپورٹ پر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے نو جنوری کو اپنے رد عمل میں اسے " فضول" قرار دیا۔

وی او اے کی ڈائریکٹر امانڈا بینیٹ نے کہا کہ لاوروف کو وی او اے کی رپورٹنگ کے بارےمیں غلط فہمی ہوئی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ " وی او اے نے اس دن روس کے رد عمل کو شائع کیا جس دن یہ (بیان) جاری ہوا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ وی او اے کو کانگرس فنڈ فراہم کرتی ہے نا کہ محکمہ خارجہ جیسا کہ لاوروف کہتے ہیں۔"

منگل کا اپنے فیس بک پوسٹ میں روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان زخاروف نے لاوروف کی غلطی کو تسلیم کیا۔

انہوں نے رپورٹر گلپروچ کے نام اپنی پوسٹ میں اس غلطی پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ مضمون آپ نے نو جنوری کی بجائے چھ جنوری کو لکھا۔ غلطی غلطی ہوتی ہے اور اس پر میں معذرت خواہ ہوں۔"

گلپر وچ کی چھ جنوری کی رپورٹ کی سرخی تھی "اسکو کی امریکہ کی انٹلیجنس رپورٹ پر مکمل خاموشی۔" اپنی رپورٹ میں انھوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ دو دن گزر چکے ہیں لیکن روس کے عہدیداروں کا اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے جو عام طور پر ماسکو سے متعلق امریکہ کے الزامات پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے رپورٹ میں کہا کہ کریملن، روس کی وزارت خارجہ، روس کی خارجہ امور سے متعلق پارلیمانی کمیٹوں یا روس کی فوج کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

گلپروچ نے اس معاملے سے متعلق روس کے وزیر خارجہ کے طرز عمل پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "لاوروف کے بیان سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ وی او اے جان بوجھ کر غلط اطلاعات پھیلا رہا ہے۔"

انھوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ لاوروف نے ان کی چھ جنوری کی رپورٹ کے بارے میں غلط بیان کرتے ہوئے کیوں اسے نو جنوری کی رپورٹ کہا۔

امریکہ کی نیشنل انٹلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے چھ جنوری کو ایک انٹلیجنس رپورٹ کا ایک مختصر خلاصہ جاری کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ روس کے صدر ولادیمر پوتن نے ذاتی طور پر " امریکہ کے 2016 کے صدارتی انتخاب کی مہم پر اثر انداز ہونے کا حکم دیا۔"

روس تواتر کے ساتھ ان الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG