رسائی کے لنکس

اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ ماہرین اپنے نئے مطالعے میں یہ دیکھنا چاہتے تھےکہ کیا لوگ گزرتے ہوئے وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں یا پھر پیسہ کمانے کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں ۔

کیا آپ ایک ایسے مہنگے گھر یا فلیٹ کو ترجیح دیں گے جس سے آپ کی ملازمت کا فاصلہ بہت کم ہے یا پھر آپ ایک سستے اور پر آسائش فلیٹ کو پسند کریں گے، جہاں سے آپ کو ملازمت پر جانے کے لیے طویل وقت درکار ہو گا؟

یہ سوال برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے محققین نے 4,600 شرکاء سے ایک سروے میں پوچھا تھا۔

اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ ماہرین اپنے نئے مطالعے میں یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا لوگ گزرتے ہوئے وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں یا پھر پیسہ کمانے کو اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھ لیتے ہیں۔

لگ بھگ ڈیڑھ سال پر محیط مطالعے کے لیے محققین نے چھ جائزوں کا تجزیہ کیا۔

محققین نے امریکی طلبہ سے ایک دوسرا سوال پوچھا تھا کہ کیا وہ گریجویٹ ڈگری حاصل کرنے کے بعد زیادہ تنخواہ کے ساتھ لمبے گھنٹوں کی ملازمت کرنا پسند کریں گے یا پھر وہ ایک ایسے پروگرام میں ڈگری حاصل کرنا چاہیں گے جس میں کم آمدنی ہے لیکن کام کرنے کے گھنٹے بھی محدود ہوتے ہیں۔

آن لائن جریدہ 'سوشل سائیکولوجی اینڈ پرسنالٹی سائنس' میں چھپنے والی تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ زیادہ پیسے کے حصول کے مقابلے میں وقت کی قدر کرنا انسان کے لیے زیادہ خوشیوں کا باعث بنتا ہے۔

سماجی نفسیات سے متعلقہ محققین کو پتا چلا کہ شرکاء پیسہ کمانے اور وقت کی قدر کرنے کے معاملے میں یکساں طور پر دو گروپ میں تقسیم ہو گئے تھے اور ان کا یہ انتخاب ان کے روزمرہ معاملات اور زندگی کے اہم واقعات میں بھی کھل کر نظر آ رہا تھا۔

برٹش کولمبیا یونیورسٹی میں سماجی نفسیات سے وابستہ مطالعے کی سربراہ محقق ایشیلے ویلینس نے نتائج میں کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ زیادہ پیسہ کمانے کے مقابلے میں اپنے وقت کی اہمیت کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

بقول محقق ایشیلے زیادہ فارغ وقت زیادہ پیسہ کمانے کے مقابلے میں خوش رہنے کے لیے زیادہ ضروری ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہاں شرکاء میں سے نصف سے تھوڑے زیادہ لوگ پیسہ کمانے کے مقابلے میں وقت کو زیادہ اہم سمجھتے تھے۔

محقق ایشیلے کے مطابق جیسے جیسے لوگوں کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے، وہ پیسہ کمانے کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ بامعنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ اس مطالعے میں بڑی عمر کے شرکاء کے لیے وقت کی اہمیت پیسے سے کہیں زیادہ تھی لیکن، اس کے برعکس نوجوان شرکاء نے وقت کے مقابلے میں پیسے کو ترجیح دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ تعجب کی بات یہ تھی کہ شرکاء کی جنس اور ان کی آمدنی نے ان کے اس نظریہ کو بالکل بھی متاثر نہیں کیا تھا۔

محققین نے واضح کیا کہ اس مطالعے میں غربت کی سطح میں رہنے والے افراد شامل نہیں تھے، جن کے لیے وقت سے کہیں زیادہ پیسہ اہم ہوتا ہے۔

محقق ایشیلے ویلینس کے مطابق یہ نتائج ان کے لیے بھی حیران کن رہے کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ لوگ ثقافتی دباؤ کے پیش نظر کھل کر پیسے کی اہمیت میں نہیں بولیں گے۔

لیکن، جب انھوں نے دیکھا کہ شرکاء پیسہ یا وقت کی قدر کے انتخاب کے معاملے پر دو یکساں گروپ میں تقسیم ہو گئے تو محقق ایشیلے کو یقین ہو گیا کہ شرکاء نے پوری ایمانداری کے ساتھ اپنی مرضی سے جوابات دیے تھے۔

XS
SM
MD
LG