رسائی کے لنکس

'محمد' برطانیہ میں بچوں کا مقبول ترین نام


لڑکوں میں محمد نام گزشتہ برس کے مقابلے میں 27 درجے اوپر آگیا ہے اور برطانیہ میں پیدا ہونے والے بچوں کا مقبول ترین نام بن گیا ہے۔

برطانیہ میں نوزائیدہ بچوں کے 100 مقبول ترین ناموں کے چارٹ میں 'محمد' مقبولیت کےاعتبار سے والدین کا پسندیدہ ترین نام بن گیا ہے۔

'بی بی سینٹر' ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں اس فہرست میں محمد 27 درجے اوپر آگیا ہے اور برطانیہ میں پیدا ہونے والے بچوں کا مقبول ترین نام بن گیا ہے۔ دیگر ناموں میں 'اولیور' اور 'جیک' بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر مقبول ترین نام ہیں۔

نوزائیدہ بچیوں کے سال رواں کے مقبول ترین 100 ناموں کی فہرست میں سب سے زیادہ پسندیدہ نام 'صوفیہ' رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایملی، للی اور اولیویا نے لڑکیوں کے 10 مقبول ترین ناموں میں جگہ بنائی ہے۔

ویب سائٹ کے 56,157 ارکان کی طرف سے مرتب کی جانے والی فہرست میں رواں برس پیدا ہونے والے بچوں کے مقبول ناموں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

'بی بی سینٹر' کی جائزہ رپورٹ میں محمد کو مختلف ہجے کی حالتوں کے ساتھ ایک ہی نام تصور کیا گیا ہے اور اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پر 7,445 بچوں کو رواں برس محمد کا نام دیا گیا۔ ان اعداوشمار کی بنیاد پر ہی محمد کو سال 2014 کا مقبول ترین نام قرار دیا گیا ہے۔

مطالعاتی جائزے کے نتیجے سے نوزائیدہ بچوں کے عربی ناموں کی مقبولیت کا پتا چلتا ہے۔ اس برس عمر، علی، ابراہیم اور کیان کو بچوں کے 100 مقبول ترین ناموں میں جگہ ملی ہے۔

برطانیہ میں پیدا ہونے والی بچیوں کے مقبول ترین نام 'مریم' کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ 'نور' مقبول نام کے اعتبار سے اس فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے جس کے بعد ایملی اور گریسی مقبول نام رہے ہیں۔

فہرست میں نور 29 نمبر پر ہے اور مریم 59 درجے اوپر آکر بچیوں کا 35 واں مقبول ترین نام بن گیا ہے۔

لڑکوں کے ناموں میں ٹیڈی انتہائی مقبول نام رہا ہے۔ اسی طرح کیان اور جوناتھن نے 100 مقبول ناموں میں اوپر جگہ حاصل کی ہے۔

رواں برس دفتر قومی شماریات کی رپورٹ میں بھی محمد کو ہجوں کی مختلف حالتوں کے ساتھ برطانیہ کا مقبول ترین نام قرار دیا گیا تھا۔

محمد نام کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول ترین نام خیال کیا جاتا ہے اور ایک محتاط اندازے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں لگ بھگ 150 ملین مرد اور لڑکوں کانام محمد ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ بچوں کے نام رکھنے کے حوالے سے لوگوں میں مقبول ٹی وی شوز، فلم اور سلیبرٹیز سے متاثر ہونے کا رجحان بھی واضح طور پرنظر آتا ہے۔

ایک طرف 'گیم آف تھرون' کے کرداروں کے نام اور ڈزنی کی مشہور فلم 'فروزن' کی آئس کوین 'ایلسا' نے مقبولیت حاصل کی ہے تو دوسری جانب فٹ بال کے مشہور کھلاڑی ڈیوڈ بیکھم کی اہلیہ وکٹوریا بیکھم اوران کے بچوں کے ناموں نے سو مقبول ترین ناموں میں جگہ بنالی ہے۔

رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ شاہی خاندان سے نسبت رکھنے والے نام ولیم اور ہیری کی مقبولیت رواں برس کم ہوئی ہے جبکہ جارج پسندیدہ ترین 10 ناموں سے نیچے آکر 13 ویں نمبر پر آگیا ہے۔

'بی بی سینٹر' کی مینیجنگ ایڈیٹر سارہ ریڈشا نے کہا ہے کہ عربی اور بھارتی ناموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے برطانیہ کے ہمہ گیر معاشرے کی عکاسی ہوتی ہے۔

برطانیہ میں محمد نام کی مقبولیت پر 'بی بی سینٹر' کی رپورٹ پر ناقدین میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ناقدین کی طرف سے محمد نام کے مختلف ہجوں کی حالتوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے نتیجے پر محمد کو برطانیہ کے مقبول ترین نام اولیور کی جگہ دینے پر اعتراض ظاہر کیا گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض انگلش ناموں مثلا اولیور اور اولی اور جیمس یا جم کو بھی بچوں کے مقبول ناموں کے طور پر ایک ہی نام تصور کیا جانا چاہیے تھا۔

اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے 'عرب برٹش سینٹر' کی ترجمان نے روزنامہ 'انڈیپینڈنٹ' کو بتایا ہے کہ محمد ہجے کی مختلف حالتوں کے ساتھ بلاشبہ ایک ہی نام ہے۔

انھوں نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ''چونکہ عربی ایک صوتی زبان ہے اس لیے لوگ جب اس کی ہجے کرتے ہیں تو خطوط براہ راست آوازوں کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ اس لیے چاہے لوگ اس نام کو مختلف طریقے سے بھی لکھیں تو یہ ایک ہی نام تصور کیا جاتا ہے لیکن اولیور اور اولی کے ساتھ ایسا نہیں ہے کیونکہ لوگوں نے ان ناموں کو مختصر کیا ہے۔''

انھوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات محمد نام کے لیے ہجے کی ترجیحات علاقائی ہوسکتی ہیں کیونکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے کا خاندان عراق یا مصر سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اس نام کو مختلف تلفظ کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG