رسائی کے لنکس

فلپائن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد ممکنہ طور پر ہلاک


ذوالکفی بن حر

ذوالکفی بن حر

بن حر بالی بم دھماکوں کے علاوہ فلپائن میں بھی کئی دہشت گردانہ کارروائی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے ایف بی آئی کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" نے کہا ہے کہ جینیاتی تجزیے (ڈی این اے) سے بظاہر یہ تصدیق ہوتی ہے کہ گزشتہ ماہ فلپائن میں پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہونے والا شخص شدت پسندوں کا ایک اعلیٰ کمانڈر ہی تھا۔

فلپائن کے عہدیداروں یہ کہتے آئے ہیں کہ 25 جنوری کو کی گئی کارروائی میں مارا جانے والا شخص ذوالکفی بن حر تھا۔ اس کارروائی 44 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

بن حر، ماروان کے نام سے بھی مشہور تھا اور وہ الجماعۃ الاسلامیہ نامی انتہا پسند تنظیم کا رکن تھا۔

وہ انڈونیشیا میں 2002ء میں ہوئے بالی بم دھماکوں کے علاوہ فلپائن میں بھی کئی دہشت گردانہ کارروائی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے ایف بی آئی کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا۔

ایف بی آئی نے ایک بیان میں بتایا کہ فلپائن کے حکام کی طرف سے جائے وقوع سے حاصل کیے گئے ڈی این اے کے نمونے اور بن حر کے ایک قریبی رشتے دار کے ڈی این سے بظاہر مماثلت رکھتے ہیں۔

بیان کے مطابق ایف بی آئی فی الوقت یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ ڈین این اے بن حر سے ہی حاصل کیا گیا لیکن اس کے بقول سامنے آنے والی تجزیاتی رپورٹ منیلا کے اس دعوے کو تقویت دیتی ہے کہ یہ نمونہ شدت پسند سے ہی حاصل کیا گیا۔

صدر بنیگنو اکینو نے اس کارروائی کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس میں نہ صرف پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی بلکہ اس نے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نامی تنظیم کے ساتھ ہونے والے امن عمل کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ہونے والے معاہدے کے تحت انھیں بھی اس کارروائی سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا۔

گزشتہ سال مارچ میں منیلا اور مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ اس لڑائی میں ایک لاکھ بیس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG