رسائی کے لنکس

'ٹرمپ مہم میں میرے بیٹے کا نام استعمال نہ کیا جائے' 


کرسٹوفر اسٹیون (فائل فوٹو)

کرسٹوفر اسٹیون (فائل فوٹو)

چار سال قبل لیبیا میں مار ے جانے والے امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیون کی والدہ نے ریپبلکن جماعت کی صدارتی مہم میں اپنے بیٹے کے نام کو استعمال کرنے پر اعتراض کیا ہے۔

امریکہ کے ایک موقر اخبار 'دی نیویارک ٹائمز' کے مدیر کے نام لکھے گئے خط میں میری ایف کمانڈی نے لکھا کہ "مجھے یقین ہے کہ کرس یہ پسند نا کرتے کہ ان کا نام اس تناظر میں استعمال ہو مجھے امید ہے (ٹرمپ کی) مہم اپنی مصلحت و مفاد کے لیے اس کا استعمال فوری اور مستقل طور پر روک دے گی"۔

ٹرمپ کی مہم کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کرسٹوفر اسٹیو ن اور تین دیگر امریکی شہری 2012 میں اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب عسکریت پسندوں نے بن غاز ی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔

ٹرمپ اور دیگر ریپبلکنز اس حملے کا الزام اس وقت کی وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن پر عائد کرتے ہیں۔ ان کا موقف کہ ان کے دفتر نے قونصل خانے کی سکیورٹی کو بہتر کرنے کے لیے نا کوئی اقدام کیا اور نا ہی سفارت کاروں کی جان بچانے کی کوئی کوشش کی گئی۔

کلنٹن اور محکمہ خارجہ نے ان الزمات کو مسترد کیا ہے اور ریپبلکن کی قیادت میں کانگرس کی ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی ان چار امریکی شہریوں کی ہلاکت کا براہ راست الزام سابق وزیر خارجہ پر عائد کرنے میں ناکام رہی۔

دوسری طرف بن غازی میں مارے جانے والے ایک دوسرے امریکی سفارت کار کرس سمتھ کی والدہ پیٹ سمتھ نے گزشتہ ہفتے ریپبلکن جماعت کی کنوینشن میں بات کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار ہلری کلنٹن کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سمتھ خاندان سے غلط بیانی سے کام لیا۔

XS
SM
MD
LG