رسائی کے لنکس

روبوٹ ماں اپنے بنائے ہوئے ہر بچے کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے اور اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ اگلی نسل میں کون سی خصوصیات ہونی چاہیئیں۔

برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک روبوٹ ’’ماں‘‘ تیار کی ہے جو ناصرف خود اپنے ’’بچے‘‘ بناتی ہے بلکہ ان کی کارکردگی کا امتحان بھی لیتی ہے۔

روبوٹ ماں اپنے بنائے ہوئے ہر بچے کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے اور اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ اگلی نسل میں کون سی خصوصیات ہونی چاہیئیں۔

سائنسدان اینڈریس روزینڈو نے بتایا کہ ’’جب ماں بچوں کو بنا کر ان سے کام کرواتی ہے تو وہ یہ دیکھتی ہے کہ وہ کیسا کام کر رہے ہیں، اور پھر وہ یہ معلومات اگلی نسل کے روبوٹ تیار کرنے میں استعمال کرتی ہے۔‘‘

اس عمل میں کوئی انسانی مداخلت نہیں کی جاتی سوائے ایک کمپیوٹر کمانڈ دینے کے کہ ایک روبوٹ تیار کیا جائے جو ایک جگہ سے دوسرے جگہ جا سکے۔ ماں یہ بچے چھوٹی موٹروں کے حصے مختلف ترتیب سے جوڑ کر تیار کرتی ہے۔ پھر وہ دیکھتی ہے کہ بچے کتنی تیزی سے حرکت کر رہے ہیں اور ان بچوں کا ڈیزائن منتخب کر لیتی ہے جو سب سے تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ فومیا آئیڈا نے کہا ’’ماں روبوٹ اصل میں سینکڑوں روبوٹ تیار کرتی ہے اور ان بچوں کی کارکردگی دیکھتی ہے۔ اگر ان کی کارکردگی اچھی ہو تو وہ اگلی نسل کے لیے ان کا ڈیزائن منتخب کر لیتی ہے اور اگر بری ہو تو اسے چھوڑ دیتی ہے۔‘‘

ریسرچ ٹیم روبوٹ کو تحریک دیتی ہے کہ وہ بہتر بچے پیدا کرے۔

روزینڈو نے کہا کہ ’’ہم نے روبوٹ کی پروگرامنگ ایسے کی ہے جس میں ان کے بنائے ہوئے ڈیزائن کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں انعام ملتا ہے۔ وہ خود اپنا انعام تبدیل نہیں کر سکتے۔ ربوٹ بچوں میں فاصلہ طے کرنے کی رفتار اہم ہے۔ اگر روبوٹ زیادہ فاصلہ طے کرے تو اسے بہتر انعام ملے گا۔‘‘

کچھ نسلوں کے بعد ربوٹ بچے دگنی رفتار سے بھاگنے لگتے ہیں۔

آئیڈا نے کہا کہ ’’روبوٹ ماں نے یہ دیکھنے کے لیے کہ کون سا ڈیزائن اچھا ہے اور کون سا برا 500 روبوٹ تیار کیے۔‘‘

تحقیق کاروں کی رائے ہے کہ ایسی مشینوں کو گاڑیاں بنانے والی فیکٹریوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً روبوٹ کے کیمرے اسمبلی لائن میں ہر گاڑی کی نگرانی کر سکتے ہیں، ان میں غلطیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور پھر بہتر گاڑی ڈیزائن کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG