رسائی کے لنکس

82 ویں اکیڈمی ایوارڈ کے لیے ہندی فلم ’کوی’ کی نامزدگی

  • ہما رشید

بالی وڈ

بالی وڈ

تقریبا دیڑھ لاکھ روپیے کی خطیر رقم سے بنی اِس فلم کی عکس بندی محض آٹھ دنوں میں مکمل کرلی گئی تھی۔

اگلے ماہ مارچ میں امریکی شہر لاس انجلس میں ہونے والے 82 ویں اکیڈمی ایوارڈ کے لیے شاٹ فلم کے لائیو ایکشن زمرے میں امریکی فلمساز گریگ ہیلوی کی ہندی فلم ’کوی’ کو ملی نامزدگی نے ایک بار پھر بھارتی سنیمابینوں کی دل چسپی آسکر میں بڑھا دی ہے۔

بھارتی سماج میں پھیلے بچہ مزدوری جیسے سنگین مسئلے پر مبنی شاٹ فلم کوی کو ممبئی کے قریب واقع وائی نامی جگہ پر فلمایا گیا ہے۔ تقریبا دیڑھ لاکھ روپیے کی خطیر رقم سے بنی اِس فلم کی عکس بندی محض آٹھ دنوں میں مکمل کرلی گئی تھی۔

آسکر کے لیے نامزدگی حاصل کرنے والی اِس فلم کی کہانی اینٹ بنانے کی بھٹی میں بچہ مزدوری کرنے والے کوی نامی بچے کی زندگی کے اطراف گھومتی ہے جو کرکٹ کھیلنے کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ اسکول میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تاہم غربت و فلاکت میں گرفتاراس کے والد کہتے ہیں ” کچھ بچے اسکول جاتے ہیں اور کچھ بچے کام پر جاتے ہیں”۔

ہندی زبان میں بنی فلم کوی کو بین الاقوامی فلمی مارکیٹ میں انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

یہ فلم آسکر سے قبل متعدد بین الاقوامی فلمی میلوں میں انعام جیت کر فلم ناقدین کی پزیرائی حاصل کرچکی ہے۔ فلم کوی کو گونیت مونگا، ہریش امین اور خود ہیلوی نے پروڈیوس کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں سینکڑوں بچے گھروں، چائے کی دکانوں، ہوٹلوں اور تعمیراتی کاموں کے بیچ پھنس کر اپنا بچپن کھودیتےہیں۔ اور ہیلوی کی شاٹ فلم اسی سیاہ سچائی کو فلمی پردے پر پیش کرتی ہے۔

تاہم فلم کوی کو آسکر کے لیے نامزدگی ملنے کے بعد سنیمابینوں کے درمیان یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ بھارتی غریبی کے پس منظر میں بنائی گئی فلموں ہی کو کیوں آسکر کی دوڑ میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ گزشتہ سال آسکر جیتنے والی بھارتی فلم سلم ڈاگ ملینئیر اور دستاویزی فلم اسمٰعیل پنکی میں بھارت کے غریب طبقے کی کشمکش بھری زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG