رسائی کے لنکس

33 سال پہلے ایلین نامی فلم نے سائنس فکشن فلموں میں غیر مرئی مخلوق اور خوف کے عنصر کو یکجا کیا تھا۔ آج بھی کئی فلموں میں ایلین یا غیر مرئی مخلوق کو دکھایا جاتا ہے جو اس فلم میں دکھائی گئی تھی۔ آج تین دہائیوں کے بعد اس فلم کے دائریکٹر رڈلی سکاٹ نے اسی فلم کے سلسلے کو پری میتھیس کے نام سے پیش کیا ہے ۔ اس فلم کی ایلین نامی فلم گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔

1979 ءمیں ڈائریکٹر رڈلی سکاٹ نے اپنی 33 سال میں دو ایسے کردار متعارف کروائے تھے جو آج بھی لوگوں کے زہنوں میں زندہ ہیں۔ وہ دو کرادر تھے دی ایلین اور ایلن رپلی۔

ایلن رپلی وہ پہلی خاتون ہیرو تھیں جنھوں نے ایک غیر مرئی مخلوق سے پردہ سکرین پر لڑائی کی تھی ، یہ لڑائی 80 اور 90 کی دہائی میں بھی جارہی۔

جیمز کیمرون نے اس فلم کا سیکوئل دی ایلینز کے نام سے بنایا تھا جس میں ایلن رپلی کو پتا چلتا ہے کہ وہ ایلین کوئین کی طرح مزید ایلینز کو جنم دے سکتی ہے اور پھر ایلین 3 میں ایلن اپنے آپ کو اس وقت مار دیتی ہے جب اس کے جسم سے ایک ایلین جنم لینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

ان تینوں فلموں نے سائنس فکشن کہانیوں میں خواتین کرداروں کو نمایاں کیا ۔اور یہ اس سلسلے کی چوتھی فلم پرومیتھیس میں مرکزی کردار ادا کرنے والی نومی ریپاک کہتی ہیں کہ یہ کردادر زندہ بچتا ہے ، ایک جنگجو بن جاتا ہے ، رڈلی سکاٹ کی فلموں کی فیمیل ہیروئن کی طرح۔

اس فلم میں نومی ، ایلزبتھ شا کردادر ادا کر رہی ہیں جنھیں پتا چلتا ہے کہ ایلینز اب انسانوں کو گاڑیوں کی طرح مینوفیکچر کر رہے ہیں۔ اور اس جگہ کی تلاش جہاں انسانوں کو اسیمبل کیا جا رہا ہے، انھیں اسی سیارے پر لے جاتی ہے جس پر پہلی فلم ایلین بنی تھی۔

لیکن یہ فلم باقی ایلین فلموں کے برعکس دماغی اور ارتقائی سوالات کو جنم دیتی ہے اور ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

لیکن فلم اس سے پہلے بننے والی فلموں کی طرح اتنی مقبولیت حاصل نہیں کر رہی ۔ اگرچہ اس کے سپیشل ایفیکٹس بہت اچھے اور تھری ڈی میں ہیں، لیکن کہانی میں بہت الجھاؤ ہیں۔ اور یہی چیز اسے دیکھنے والوں کو بھی معلوم ہے۔

XS
SM
MD
LG