رسائی کے لنکس

فلم تبصرہ: 'مرڈر ٹو' اوسط درجے کی کمزور فلم


فلم تبصرہ: 'مرڈر ٹو' اوسط درجے کی کمزور فلم

فلم تبصرہ: 'مرڈر ٹو' اوسط درجے کی کمزور فلم

مہیش بھٹ کی نئی فلم "مرڈر ٹو "جس کے ہرسو چرچے تھے آخر کار ویسی ہی ثابت ہوئی جیسی ان کی فلمیں ہوا کرتی ہیں یعنی کہانی کم اور قابل اعتراض مناظر زیادہ۔ فلم کے ڈائریکٹر موہت پوری ہیں جبکہ موسیقار ہیں متھن، ہرشت سکسینہ اور سدھارتھ ہلدی پور۔ نمایاں فنکاروں میں شامل ہیں عمران ہاشمی، جیکلین فرنانڈس، پراشانت نارائن، سلگنا، سدھانشو پانڈے اور یانا گپتا۔

فلم کا ہیرو یعنی ارجن بھاگوت (عمران ہاشمی) پولیس کی نوکری چھوڑ چکا ہے اور پیسے کی خاطر جرائم پیشہ افراد کے لئے کام کرتا ہے ۔کال گرل مافیا ارجن کی چالاک طبیعت اور اس کی جاسوسی کی صلاحیتوں سے سے بخوبی واقف ہے لہذا جب شہر میں ان پھیلائی ہوئی کال گرلز کے اغوا اور قتل کی وارداتیں بڑھنے لگتی ہیں تو اس کے خاتمے اور اصل مجرم کا پتہ لگانے کی ذمے داری ارجن کو سونپی جاتی ہے۔

ارجن کافی محنت اور تک و دوکے بعد معلوم کرتا ہے کہ ان لڑکیوں کے غائب ہونے کی کڑی ایک ہی سیل فون نمبر سے جڑی ہے ۔ وہ ریشما(سلگناپانی گریہی) کو اپنے ساتھ ملاتا ہے اور اسے فون نمبر والے گاہک کے پاس بھیجتا ہے ۔لیکن ریشما واپس نہیں آپاتی ۔ اسے بھی قتل کردیا جاتا ہے۔ ریشما کے قتل کا ارجن کو پچھتاتا ہے اور خود کو اس کا مجرم سمجھنے لگتا ہے۔

اسی دوران ارجن یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ کہ دھیرج پانڈے (پرشانت نارائن) ہی کال گرلز کے اغواء اور قتل کے اصل ذمے دار ہے مگر اس کے پاس دھیرج کے خلاف کوئی قانونی ثبوت نہیں جس کی وجہ سے وہ مجبور ہے تاہم وہ دھیرج کے خلاف ثبوت اکٹھا کرنے کا عزم کرتا ہے اور یہیں سے فلم میں تھرل شروع ہوتا ہے۔

اس کہانی کے ساتھ ساتھ سائیڈ میں ارجن اور پریا (جیکلین فرنانڈس) کی پریم کہانی کا بھی ٹریک جاری رہتا ہے جس کا مقصد ناقدین کے مطابق صرف قابل اعتراض سین دکھانااور لوگوں کو فلم کے پردے تک لانے کے سوا کچھ نہیں۔

فلم میں ہیرو کے مقابلے میں ولن کا کردار اس قدر بڑھا چرھاکر پیش کیا گیا ہے کہ باقی تمام کریکٹرز بے رنگ معلوم ہوتے ہیں۔ ولن "سنگھرش"، "سڑک" اور" دشمن" جیسی فلموں کے ولنز سے ملتا جھلتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فلم کے کئی سین مہیش بھٹ کی پرانی فلموں کی یادتازہ کردیتے ہیں۔

ڈائریکٹر کی جانب سے کہانی ، اسکرین پلے اور دوسرے کردار وں کو بڑھانے میں جو ڈھیل دی گئی ہے وہ صاف نظر آتی ہے لہذا" مرڈر ٹو" ایک کمزور فلم کے علاوہ کچھ نہیں۔ فلم کی کہانی چند گھنٹوں کے گرد گھومتی ہے مگر محض چند گھنٹوں میں ڈھیرسارے واقعات ہونا ممکن نہیں ۔یہ کہانی کا جھول ہے۔ اسکرین پلے میں بھی کئی کمزوریاں ہیں جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ ناظرین کہانی سے جڑ نہیں پاتے۔

کئی ٹریک ٹھونسے ہوئے لگتے ہیں جیسے ارجن کی اپنے بھگوان سے سے ناراضگی۔ ارجن اور پریا کی لو اسٹوری بھی نہایت بورکرتی ہے۔ریشما کو دھیرج پانڈے کے ساتھ بھیج کر پچھتانا بھی اس کے کردار سے فلم بینوں کی ہمددردی کے لئے پیدا کیا گیا ہے لیکن یہ بہت سطحی ہے۔

مجرم دھرج کے خلاف ارجن کا ثبوت اکھٹا کرنا اسکرپٹ کا سب سے مضبوط پہلو ہونا چاہئے تھا کیوں کہ کہانی کا سارا تھرل یہی ہے لیکن یہ حصہ بھی سطحی ہے اور کسی بھی طرح دلچسپ محسو س نہیں ہوتا۔

جیکلین فرنانڈس فلم میں فالتو نظر آتی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ صرف قابل اعتراض سین کی پکچرائزیشن کے لئے انہیں لیا گیا تھا ۔ عمران ہاشمی کی اداکاری بھی اوسط درجے کی ہے ۔ فلم کے گیت اور موسیقی بہرحال کچھ بہتر ہے ۔

XS
SM
MD
LG