رسائی کے لنکس

ایک ہنگامی اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، پارٹی کے سرکردہ رہنما، خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ، ’محبت کے پیغام کے بدلے ہمیں ہمیشہ نفرت ملی ہے۔ نفرت کی سیاست کرنا ہوتی تو پیپلز پارٹی کی حکومت کا ساتھ نہ دیتے‘

کراچی: صوبہٴ سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت، متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

ایم کیو ایم نے یہ فیصلہ لفظ مہاجر سے متعلق سید خورشید شاہ کے دو روز قبل کے بیان پر اظہار مذمت اور گذشتہ دِنوں پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری کے ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کے خلاف دئے گئے ایک بیان پر کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کےسینئر رہنما، خالد مقبول صدیقی نے اتوار کے روز ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کے مشترکہ اجلاس کےبعد، ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو پر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ایم کیو ایم کا سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

خالد مقبول کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے لفظ مہاجر کو گالی کہہ کر تعصب کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ الطاف حسین نےنفرت کی خلیج کے باوجود محبت کی سیاست کی ہے۔ ان کے بقول، ’محبت کے پیغام کے بدلے ہمیں ہمیشہ نفرت ملی ہے۔ نفرت کی سیاست کرنا ہوتی تو پیپلز پارٹی کی حکومت کا ساتھ نہ دیتے‘۔

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ان کے قائد اور مہاجر مخالف بیانات کو قبول نہیں کیا جائےگا۔ خالد مقبول نے کہا کہ ’جب بات قائد پر آجائے، تو ایم کیو ایم کا کوئی کارکن کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرتا‘۔

متحدہ کے رہنما نے کہا کہ، ’اب پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا مقصد جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ، اس کا جواب مہاجروں کے صوبے کا قیام ہوگا۔

بقول اُن کے،’ہم اپنا یہ حق لے کر رہیں گے۔ مزید یہ کہ ہم آج سے سندھ حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔‘

خالد مقبول صدیقی نے سنہ 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف کئےگئے آپریشن کا حوالہ دتے ہوئے کہا کہ ’ایم کیو ایم بدترین آپریشن کا سامنا کرکے سامنے آئی ہے۔ ایم کیو ایم کو ہمییشہ محبت کے بدلے لاشوں کے تحفے ملے ہیں‘۔

بلاول بھٹو کے زرداری کی بیان پر، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’جینا حرام کرنے کی دھمکی دینے والے‘ بہلے یہ بتائیں کہ ’بلاول نے کبھی بینظیر بھٹو کے قاتلوں سمیت بھٹو خاندان کے افراد کے قاتلوں کا جینا حرام کیا؟‘

نئے صوبے کے بیان پر، ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم صوبوں کے مطالبے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے‘۔

انھوں نے لفظ مہاجر کے خلاف بیان پر مزید کہا کہ دو روز قبل، سید خورشید شاہ نے ’مہاجر لفظ کو گالی قرار دیا، جسےبرداشت نہیں کیا جا سکتا‘۔

ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس میں سندھ حکومت سے علیحدگی کے اعلان کے بعد، ایم کیو ایم کے کارکنوں نے 'جئے مہاجر' اور 'گو زرداری گو' کے نعرے بھی بلند کئے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت سے علیحدگی کے اعلان کے بعد پیر کو ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین، ایوان میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں گے۔

XS
SM
MD
LG