رسائی کے لنکس

ایم کیو ایم کا نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ


ایم کیو ایم کنونشن

ایم کیو ایم کنونشن

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ’’مسلح جدوجہد کی بجائے ایم کیو ایم ریشمی رومال کی طرح کی تحریک برپا کرنا چاہے گی، تاکہ مہاجروں کو ان کے حقوق مل سکیں‘‘

متحدہ قومی مومنٹ نے ’’پاکستان میں مختلف کمیونٹیز کے درمیان ایک نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ حقوق کی جدوجہد میں کبھی مسلح راہ نہیں اپنائی جائے گی‘‘۔

واشنگٹن میں متحدہ قومی مومنٹ امریکہ کے بیسویں سالانہ کنوینشن سے خطاب میں، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنونیئر ڈاکٹر فاروق ستار نے اس عمرانی معاہدے کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان میں عوامی منڈیٹ منقسم ہے اور کوئی ایک ایسا لیڈر موجود نہیں جو پورے ملک کی نمائندگی کی صلاحیت رکھتا ہو‘‘۔

انھوں نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ’’وہ اس حقیقت سے آنکھیں چرانا بند کریں اور نئی مردم شماری کی روشنی میں ایک نئے عمرانی معاہدے کے تحت ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹ قائم کئے جائیں‘‘۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’’اس عمرانی معاہدے کے تحت مقامی حکومتوں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے۔ پولیس کا مقامی نظام مرتب کیا جائے اور احتساب کا نہایت مؤثر اور غیر جانبدار نظام قائم کیا جائے‘‘۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ ’’صوبہٴ سندھ میں لسانی وحدتوں کے درمیان توازن کی شرح تبدیل ہوچکی ہے۔ شہروں کی آبادی 55 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ دیہی آبادی 45 فیصد رہ گئی ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر غیر جانبدار مردم شماری کرادی جائے تو، بقول اُن کے، ’’سندھ کا اگلا وزیر اعلیٰ مہاجر ہوگا‘‘۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ’’مسلح جدوجہد کی بجائے ایم کیو ایم ریشمی رومال کی طرح کی تحریک برپا کرنا چاہے گی، تاکہ مہاجروں کو ان کے حقوق مل سکیں‘‘۔

نئے عمرانی معاہدے کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات چیت میں کہا کہ ’’مطالبہ کرنا ہر ایک کا حق ہے اور ایم کیو ایم بھی کوئی مطالبہ کرسکتی ہے۔ تاہم، انھیں دیکھنا ہوگا کہ یہ ملک ایک آئین کے تحت چل رہا ہے اور آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا طریقہٴ کار بھی متعین ہے، جس کے تحت آپ کو اسمبلی میں قرارداد لانا ہوگی اور دو تہائی کی اکثریت کی منظوری سے آپ نئے صوبے بناسکتے ہیں۔ لیکن، کم از کم تین بار سندھ اسمبلی اتفاق رائے سے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرار داد منظور کر چکی ہے‘‘۔

تحریک انصاف یو ایس اے کے مرکزی رہنما، مزمل خان نے ’وائس اف امریکہ‘ سے گفتگو میں اس مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’نیا عمرانی معاہدہ متفقہ آئین سے چھیٹر چھاڑ کے مترادف ہوگا، جو ملک کے لئے نہایت خطرناک ہوگا‘‘۔ انھوں نے زور دیا کہ ’’کسی نئے عمرانی معاہدے کی بجائے موجودہ آئین میں بہتری کے لئے نئی ترامیم لائی جائیں‘‘۔

تاہم، ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما، مصطفیٰ عزیز آبادی نے پارٹی کی جانب سے نئے عمرانی معاہدے کے مطالبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس معاہدے سے مراد موجودہ نسلی اور لسانی اکائیوں کے وجود کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو حقوق دینا ہے۔ ایم کیو ایم ملک میں 20 نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہی ہے جس کے لئے آئین میں بنیادی ترامیم لانا ضروری ہوگا‘‘۔ لیکن، یہ کام، بقول ان کے، ’’صرف پارلیمنٹ پر نہیں چھوڑا جا سکتا، بلکہ اس ملک کے ارباب اختیار اور عوامی قیادت اس سلسلے میں فیصلہ کرے‘‘۔

ایم کیو ایم کے اس کنونیشن سے رابطہ کمیٹی کے کنونیئر ندیم نصرت اور مرکزی رہنما بابر غوری نے بھی خطاب کیا اور سندھ میں مبینہ طور پر ’’اردو بولنے والوں کے خلاف رینجرز کے آپریشن کی سخت مذمت کی‘‘۔

ایم کیو ایم کے اس تین روزہ کنونیشن میں ملک بھر سے سیکٹروں مندوبین نے شرکت کی جس میں خواتین، مرد اور بچے سبھی شامل تھے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے قائد الطاف حسین کی قیادت میں حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

کنوینشن میں ایک سالانہ مجلہ کا اجراء بھی کیا گیا جس میں حقوق کی جدوجہد کے دوران دی گئی مبینہ قربانیوں کی تصویری جھلکیاں بھی پیش کی گئیں ہیں؛ جبکہ کنوینشن کے مختلف سیشن میں کارکنوں کے لئے فکری نشتیں بھی منعقد کی گئیں۔

کنوینشن کے آخری دن منظور کی گئی مختلف قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ ’’پاکستان میں فوری مردم شماری کرائی جائے، ملک کو فوری طور پر 20 چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے‘‘۔

XS
SM
MD
LG