رسائی کے لنکس

”آرمی چیف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ہم اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ رینجرز حکام سے بھی ہمارا رابطہ ہوا ہے اور رینجرز کی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آفتاب احمد کو انصاف ملے گا“

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے رہنما فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر اور دیرینہ کارکن آفتاب احمد کی گذشتہ روز ہونے والی اچانک موت پر بدھ کو 'یوم سوگ' منایا۔

یوم سوگ کے حوالے سے شہر بھر کے متعدد علاقوں میں سیاہ پرچم لہرائے گئے اور درجنوں مقامات پر کارکنوں اور رہنماوٴں نے سڑکوں کے دونوں کنارے کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔

احتجاج کرنے والوں میں بڑے پیمانے پر خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ موجود تھیں۔ کارکنوں نے ہاتھوں میں پارٹی سربراہ الطاف حسین کی تصاویر، احتجاجی نعروں والے بینر اور سیاہ پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ''ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے مظالم بند کئے جائیں، لاپتا کارکنوں کو بازیاب کرایا جائے اور آفتاب احمد کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے ذمے داروں کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے''۔

اس حوالے سے 'وائس آف امریکہ' کے نمائندے نے ایم کیو ایم رہنما اور کراچی کے نامزد میئر، وسیم اختر نے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ”آرمی چیف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ہم اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ رینجرز حکام سے بھی ہمارا رابطہ ہوا ہے اور رینجرز کی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آفتاب احمد کو انصاف ملے گا۔“

ایک سوال پر وسیم اختر کا کہنا تھا '’آفتاب احمد سمیت اب تک ہمارے 56 کارکن جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ تقریباً 170 کارکن اب بھی لاپتا ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ بند ہو۔ جو کارکن لاپتا ہیں انہیں بازیاب کرایا جائے اور آفتاب احمد کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے اور جو بھی ان کی موت کے ذمے دار ہیں انہیں قانون کی گرفت میں لایا جانا چاہئے۔ “

ایک اور سوال پر وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ''ہمارا آئندہ کا لائحہ بھی یہی ہوگا کہ ہم کل جیسے واقعات کو نہ ہونے دیں۔ ہم کارکنوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو رکوانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم انصاف کے منتظر ہیں۔“

XS
SM
MD
LG