رسائی کے لنکس

پی پی پی اور ایم کیو ایم میں اختلافات دور کرنے کی کوششیں جاری


پی پی پی اور ایم کیو ایم میں اختلافات دور کرنے کی کوششیں جاری

پی پی پی اور ایم کیو ایم میں اختلافات دور کرنے کی کوششیں جاری

دریں اثنا پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی کراچی میں تشد د کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو کراچی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے تشدد کے خاتمے کے لیے مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تقریباََ ایک کروڑ 80 لاکھ آبادی والا یہ شہر پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے جہاں شہر میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہورہی ہے وہاں ان واقعات سے مرکز اور صوبے میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی اور اس کی ایک اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات میں بھی شدت آگئی ہے۔ اُدھر لیاری ٹاوٴن کے بعد حالیہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ آہستہ آہستہ شہر کے دیگر علاقوں تک پھیل رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سے ہے اس لیے شہر میں امن و امان کو بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی ان دونوں پر عائد ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ہفتے کو متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینٹ نے اپنی جماعت کی رابطہ کمیٹی سے انھیں پارلیمان میں اپوزیشن نشستوں پر بیٹھنے کی اجازت دیے جانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام ہے کہ لیاری گینگز جنھیں حکومت کے بعض عناصر کی سرپرستی حاصل ہے، تسلسل کے ساتھ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ہدف بنا کر قتل کر رہے ہیں لیکن بار بار حکومت کی توجہ دلانے کے باوجود بھی صوبائی اور مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنماوٴں کا دعویٰ ہے کہ اگر ان کی جماعت حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوئی تو پیپلز پارٹی مرکز اور صوبہ سندھ میں اپنی حکومتیں برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ اس کے ردعمل میں پیپلزپارٹی کے رہنماوٴں کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کو اتحادی بنایا گیا ہے تو اسے پیپلز پارٹی کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

ادھر ہفتہ کی شب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلا وطن رہنما الطاف حسین کے درمیان ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت کے بعد دونوں جماعتوں کے مابین اختلافات کو دور کرنے کے لیے سندھ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اجلاس اتوار کو گورنر ہاوٴس میں طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اس وقت تیزی آئی جب جمعرات کی شام ایک سیاسی جماعت کے کارکن کی لیاری سے لاش ملی جس کے بعد سے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر میں گذشتہ چار روز کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 30 سے زائد ہو گئی ہے جب کہ متعدد افراد خمی بھی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی کراچی میں تشدد کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو کراچی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے تشدد کے خاتمے کے لیے مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تقریباََ ایک کروڑ 80 لاکھ آبادی والا یہ شہر پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ فریقین کے درمیان بات چیت سے تشدد کی کارروائیوں کا فوری خاتمہ ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی رابطوں اور سیاسی بات چیت پر ہی پاکستان اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کا دارومدار ہے۔


XS
SM
MD
LG