رسائی کے لنکس

اس احتجاجی مظاہرے میں نوجوانوں اور معمر افراد کے علاوہ خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جنھوں نے ہاتھوں میں ایم کیو ایم کا پرچم اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں حالیہ آپریشن کے دوران، مبینہ طور پر، تشدد کے شکار بعض افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں

وزیر اعظم نواز شریف کی صدر اوباما سے ملاقات کے موقع پر، جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے سامنے ایم کیو ایم کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے اور کراچی میں رینجرز آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کارکنوں کے خلاف مبینہ ماورائے عدالت قتل، اغوا اور دیگر زیادتیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

انھوں نے ایم کیو ایم کے رہنما، الطاف حسین کی تقاریر اور بیانات پر پابندی کے خلاف بھی آواز بلند کی۔

مظاہرے میں، نوجوانوں اور معمر افراد کے علاوہ خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی، جنھوں نے ہاتھوں میں ایم کیو ایم کا پرچم اور حالیہ آپریشن کے دوران مبینہ تشدد کے شکار بعض افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

ایم کیو ایم یو ایس اے کے سنٹرل آرگنائزر، جنید فہمی کی قیادت میں ہونے والے اس مظاہرے میں واشنگٹن اور قریبی ریاستوں سے کارکنوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر مظاہرین سے خطاب میں، ایم کیو ایم کے قائدین نے الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت کو، بقول اُن کے،’بزور طاقت ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے‘ اور انھیں ’ایک بار پھر دیوار سے لگادیا گیا ہے‘۔

انھوں نے میڈیا کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔

پاکستانی حکام نے مظاہرے پر ردِعمل کے اظہار سے گریز کیا۔

XS
SM
MD
LG