رسائی کے لنکس

وڈیو لنک کے ذریعے، مظاہرین سے خطاب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اعلان کیا کہ وہ ماہ اکتوبر میں امریکہ کا دورہ کریں گے، ’’تاکہ کراچی میں انسانی حقوق کی صورتحال دنیا کے سامنے پیش کرسکیں‘‘

متحدہ قومی مومنٹ نے کراچی میں رینجرز اپریشن کے خلاف وائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے خطاب میں پارٹی کے قائد الطاف حسین نے ماہ اکتوبر میں دورہٴ امریکہ کا اعلان کیا۔

متحدہ قومی مومنٹ کے اس مظاہرے میں ملک بھر سے آئے ہوئے پارٹی کارکنان کراچی میں رینجرز آپریشن کے دوران پارٹی کارکنوں کے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین سے خطاب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ وہ اپنے امریکہ کے دورے میں کراچی میں انسانی حقوق کی صورتحال سے دنیا کو آگاہ کریں گے۔

مظاہرین سے خطاب میں انھوں نے وائٹ ہاؤس کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ دنیا بھر میں مظلوم اقوام کی مدد کے لئے اپنی افواج بھیجتے ہیں، اگر آپ کراچی میں اپنی افواج نہیں بھیج سکتے تو کم از کم اپنے نمائندے ہی بھیج دیں جو اس بات کا جائزہ لے سکیں کہ کس طرح ریاستی ادارے‘‘، بقول ان کے، ’’اردو بولنے والوں کے خلاف مظالم کر رہے ہیں‘‘۔

سخت گرمی میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس احتجاجی مظاہرے کے دوران کارکنان، جن میں مرد، بچے اور خواتین سب ہی شامل تھے، ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے اور کارکنوں کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔

اس موقع پر، ایم کیو ایم رابطہ کمٹی کے کنونیئر ندیم نصرت، مرکزی رہنما زریں مجید اور سابق وفاقی وزیر بابر غوری بھی موجود تھے۔

مظاہرے کے دوران پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان بھی ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے اور کراچی آپریشن کی حمایت میں نعرے بازی کرتے ہوئے، وائٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے اور دونوں گروپوں کے درمیان نعرے بازی اور نوک جھونک کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تاہم، پولیس نے فوری مداخلت کرکے، دونوں مظاہرین کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔

مخالفانہ مظاہرہ کرنے والے رہنما سجاد بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے یہاں آئے ہیں۔ بقول اُن کے، ’’ہمیں پاکستان میں امن چاہئے، رینجرز جو آپریشن کر رہی ہے، ہم اس کی حمایت کرتے ہیں، ایم کیو ایم جو سیاست کرنا چاہتی ہے وہ ملک میں کرے، اسے ملک سے باہر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔

مظاہرین میں شامل مسلم لیگ کے ایک مقامی رہنما اسد چوہدری کا مؤقف تھا کہ پاکستان خصوصاً کراچی طویل عرصے سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور رینجرز آپریشن سے، بقول ان کے، ’’امن بحال ہوا ہے۔ اس لئے ہم اس آپریشن کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاکہ کراچی میں دیرپا امن قائم ہو‘‘۔

ادھر کراچی میں تعینات رینجرز کے ترجمان، میجر رضا نے ’وائس آف امریکہ‘ کے استفسار پر بتایا کہ دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن بلا امتیاز جاری ہے۔ رینجرز کبھی کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی میں فریق نہیں بنتی۔ تاہم، اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں‘‘۔

جبکہ، ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مہاجروں کے مسائل ملک کے اندر حل کرنے کی تمام تر کوشیشں کی گئیں۔ لیکن، ان کے بقول، توجہ نہ ملنے پر وہ اپنا مسئلہ عالمی اداروں تک پہنچانے پر مجبور ہوئے۔

ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری نے کہا کہ ان کی پارٹی ’’ماورائے آئین کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتی۔ لیکن، کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، انھیں لاپتہ کرنا اور انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بنانا بین الااقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے‘‘۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے کارکنان ’’جمہوریت کی اس عظیم علامت کے سامنے اس لئے مظاہرہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے خلاف ناانصافیوں سے دنیا کو آگاہ کرسکیں‘‘۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں 2013ء سے غیر اعلانیہ مارشلا نافذ کر دیا گیا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے شروع کیا گیا آپریشن، ان کے بقول، ’’اب صرف ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لئےکیا جا رہا ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG