رسائی کے لنکس

شرکا نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف دانستہ طور پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ ان کے کارکنوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کارکنوں اور رہنماوٴں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایم کیو ایم کی انتخابی مہم میں خواہ مخواہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں

کراچی میں جمعرات کو متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے دفاتر پر مبینہ چھاپوں اور کارکنوں کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جو انتظامیہ کی جانب سے درمیان میں ہی روکے جانے پر دھرنے میں بدل گئی۔

ریلی لیاقت آباد دس نمبر سے شروع ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ پر ختم ہونا تھی، لیکن پولیس نے ریلی کو نمائش سے آگے نہیں جانے دیا اور رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔

اس موقع پر کچھ کارکنوں کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، ایم کیو ایم کے رہنماوٴں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ رہنماوٴں کا کہنا تھا کہ وہ سیکورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ پرامن ریلی اور احتجاج ان کا مقصد ہے۔

ریلی کے شرکا سے ڈاکٹر فاروق ستار اور حیدر عباس رضوی سمیت کئی رہنماوٴں نے خطاب کیا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ یہ ریلی دراصل کراچی کے عوام کا ملین مارچ ہے جبکہ پانچ دسمبر کو یعنی پولنگ والے دن بلین مارچ ہوگا۔

فاروق ستار کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دی جائیں گی۔

ریلی کی قیادت کرنے والے رہنماوٴں میں ڈاکٹر فاروق ستار کے علاوہ عامر خان، عبدالحسیب، کنور نوید جمیل، حیدر عباس رضوی اور دیگر شامل تھے۔ ریلی میں ایک محتاط اندازے کے مطابق کئی ہزار افراد نے شرکت کی۔

ریلی میں شرکا اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث لیاقت آباد، گارڈن، ایم اے جناح روڈ، گرومندر، نمائش، کوریڈور تھری، لائنز ایریا، گولیمار، لسبیلہ اور دیگر اطرافی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی اور بدترین جام دیکھنے میں آیا۔

ریلی میں پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس کی متعدد موبائلز بھی ریلی کے ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔

ریلی کے شرکا نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کو بھرپور طریقے سے شرکت کرنے کے مطالبات درج تھے۔ متعدد پلے کارڈز پر کارکنوں کی گرفتاریوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے زیر حراست افراد کی رہائی کے مطالبات بھی درج تھے۔

شرکا نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف دانستہ طور پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ ان کے کارکنوں کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کارکنوں اور رہنماوٴں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایم کیو ایم کی انتخابی مہم میں خواہ مخواہ رکاوٹیں ڈالی جارہی ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم نے مبینہ طور پر کراچی میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاری اور چھاپے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کیلئے وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔

اس صورتحال سے وفاقی حکومت کی بعض اہم شخصیات بھی آگاہ ہیں۔ ان شخصیات نے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

XS
SM
MD
LG