رسائی کے لنکس

ایم کیو ایم سینیٹ، قومی اور سندھ اسمبلیوں سے مستعفی


ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کے دوران اُن کی جماعت کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت اس تاثر کی نفی کرتی ہے۔

پاکستانی پارلیمان میں عددی اعتبار سے چوتھی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ’ایم کیو ایم‘ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ سندھ اسمبلی میں بھی اپنے استعفے جمع کروا دیے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایم کیو ایم کے ممبران کے استعفوں کی تصدیق کے بعد متعلقہ حکام کو اس بارے میں ضابطے کی کارروائی کی ہدایت کی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین سینیٹ نے بھی اپنے استعفے جمع کروائے۔

اُدھر سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اراکین صوبائی اسمبلی کی طرف سے جمع کروائے گئے استعفوں کی تصدیق کا عمل ابھی شروع نہیں کیا گیا ہے۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے ممبران اپنے استعفی واپس لے لیں۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے استعفے جمع کروانے والے ایم کیو ایم کے اراکین سے تصدیق کے عمل کے دوران فرداً فرداً پوچھا کہ آیا اُنھوں نے اپنا استعفیٰ بغیر کسی دباؤ اور اپنی مرضی سے دیا۔

قواعد و ضوابط کے مطابق قومی اسمبلی کی ’لیجسلیٹو برانچ‘ کارروائی مکمل کرنے کے بعد ایک خط کے ذریعے الیکشن کمیشن کو مطلع کرتی ہے جس کے بعد متعلقہ نشستوں کے خالی ہونے سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ’ایم کیو ایم‘ کے اراکین کے استعفوں کی منظوری سے متعلق اسپیکر قانونی مشیروں سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے استعفے جمع کروانے کے بعد الزام لگایا گیا کہ جس طرح اُن کے استعفوں کی تصدیق کا عمل کیا گیا اُس سے اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے غیر جانبدارانہ رویے کہ عکاسی ہوتی ہے۔

’’ہمارے استعفےٰ لینے کے لیے اسپیکر(قومی اسمبلی)بھی آ گئے، چیئرمین سینٹ بھی آ گئے اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بھی آ گئے تو یہ بھینطر آ گیا کہ ہم کس درجے کے شہری ہیں اور باقی ایم این ایز اور سینیٹرز کس درجے کے پاکستانی ہیں ان کے استعفوں کے وقت یہ دونوںحضرات غائب تھے اور ہمارے استعفے لئے گئے اور ان کی عملی طور پر ان کی تصدیق کی گئی ہے ہمیں اس کی خوشی ہے یہی آئین اور قانون ہے لیکن اس سے ہمارے آج کے استعفوں کے عمل سے تقویت ملتی ہے کہ اسپیکر اور چیئرمین کا رویہ بھی جانبدار ہے۔‘‘

ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ اُن کی جماعت کے کارکنوں کو کراچی آپریشن میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اُن کی شکایات کو نہیں سنا جا رہا ہے۔

فاروق ستار کا الزام تھا کہ کراچی آپریشن کے بارے میں وزیر اعظم نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جس نے آپریشن سے متعلق تحفظات کو دور کرنا اور ’ماورائے عدالت اقدامات‘ کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنا تھا، لیکن فاروق ستار کے بقول وہ کمیٹی ابھی تک نہیں بنی۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج کے بارے میں بیان کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی جو اُن کے بقول آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے۔

فاروق ستار کا موقف تھا کہ اسی نوعیت کے پیغامات وزیر دفاع خواجہ آصف، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن کے بھی سامنے آ چکے ہیں لیکن اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ایم کیو ایم کے مطابق پارٹی کی لندن میں رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد منتخب ایوانوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کے دوران اُن کی جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایوان میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جاری آپریشن پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں اور اُن کے بقول اس وقت بھی ماسوائے ایم کیو ایم کے تمام جماعتوں کا اس پر اتفاق ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کراچی رینجرز کا آپریشن ’ایم کیو ایم‘ کے خلاف نہیں۔

’’نا رینجرز، نا فوج، ناحکومت اور نا ہی یہ ایوان ایم کیوایم کے خلاف ہے۔۔۔۔ مسئلہ رینجرز اور فوج میں نہیں ہے مسئلہ الطاف حسین صاحب کی تقاریر کا ہے۔‘‘

پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اراکین کی تعداد 24 ہے جن میں سے چار خواتین اوراقلیتی نسشت سے منتخب ایک رکن ہے۔

ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ’ایم کیو ایم‘ کے اراکین کی تعداد آٹھ ہے جب کہ سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین کی تعداد 51 ہے۔

XS
SM
MD
LG