رسائی کے لنکس

نامزد مئیر وسیم اختر نے بدھ کو رات گئے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ ''پی پی حکمراں حکومت کی اچانک صفائی مہم شروع کرنے کا مقصد متحدہ کی مہم کو ناکام بنانا ہے''۔ تاہم، بقول اُن کے، ''ہم بغیر کسی مشینری کے ہی صفائی مہم جمعرات سے شروع کردیں گے''

شہر قائد کے سیاسی منظر نامے پر جمعرات کو بھی خاصی ہلچل رہی۔ ایم کیو ایم نے شہر میں صفائی مہم کا اعلان کیا تو صوبائی حکومت نے بھی ایک رات قبل صفائی مہم شروع کرنے کا یکایک اعلان کردیا۔ اعلان کے ساتھ ہی، اطلاعات کے مطابق، تمام سرکاری مشینری کو ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقے میں طلب کرلیا گیا۔

صوبائی حکومت کے اس اعلان پر نامزد مئیر وسیم اختر نے بدھ کو رات گئے پریس کانفرنس کی جس میں اُنھوں نے الزام لگایا کہ ''پی پی حکمراں حکومت کی اچانک صفائی مہم شروع کرنے کا مقصد متحدہ کی مہم کو ناکام بنانا ہے''۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ وہ ''بغیر کسی مشینری کے، صفائی مہم جمعرات سے شروع کردیں گے''۔

اور یوں، متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دو روز قبل اعلان کردہ ’صفائی مہم‘ کا جمعرات کو باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ کراچی کے لئے نامزد مئیر وسیم اختر نے لائنز ایریا اور نمائش کے علاقے سے اس کی شروعات کی جبکہ ایک اور رہنما فاروق ستار نے بھی کھارادر میں جھاڑو دے کر مہم میں ان کا ساتھ دیا۔

مہم کے دوران ہر ڈسٹرکٹ کے ایک ٹاوٴن اور ہر ٹاوٴن کی دو یونین کونسلوں میں صبح 9بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ مہم کراچی کے تمام ڈسٹرکٹس میں ایک ماہ تک جاری رہے گی۔

نامزد مئیر وسیم اختر نے نمائش پر سرکاری مشینری کے ذریعے صفائی مہم کا افتتاح کیاجبکہ کچھ مقامات پر بذات خود بھی جھاڑو دی اور صفائی کے کاموں میں حصہ لیا۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے سمیت تمام میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، وسیم اختر نے کہا کہ ''سندھ حکومت کی جانب سے صفائی مہم کے لیے ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ کے ایم سی کی جو بھی گنی چنی گاڑیاں ہیں ان ہی کے ذریعے شہر کا کچرا اٹھایا جا رہا ہے''۔

صفائی مہم سے آگاہی کیلئے شہر کے مختلف علاقوں میں بینرز لگائے گئے ہیں جبکہ صفائی ستھرائی سے متعلق آگاہی کی فراہمی کیلئے پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے ہیں۔

مصطفیٰ کمال۔۔راتوں رات پوسٹرز دیواروں پر چسپاں
متحدہ قومی موومنٹ کی مخالفت کرنے والے گرو کی بات کریں تو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اچانک مصطفیٰ کمال کے نئے پوسٹرز مختلف علاقوں میں لگادئیے گئے۔ شہریوں کو بھی اس کی خبر جمعرات کی صبح ہی ہوئی۔

رات کے اندھیرے میں لگائے جانے والے ان پوسٹرز پر ”امید کی کرن۔۔مصطفیٰ کمال“ لکھا ہے۔ پوسٹرز انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں شہر کے مختلف علاقوں میں چسپاں کئے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG