رسائی کے لنکس

اس موقع پر ایم کیو ایم کے کئی اہم رہنماؤں نے مظاہرے سے خطاب بھی کیا۔ ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم کنور نوید جمیل نےالزام لگایا کہ ’’پارٹی کارکنان کو گرفتار کرکے ایم کیو ایم سے وفاداری تبدیل کرتے ہوئے ایک مخصوص پارٹی میں شمولیت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے''

کراچی ... متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اپنے لاپتہ اور زیرحراست کارکنوں کی رہائی کے لئے احتجاج میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ ہفتے کو بھی کراچی پریس کلب کے سامنے ایم کیو ایم نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جو بعد میں دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔

احتجاجی دھرنے میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ممبران اور اراکین اسمبلی نے بھی حصہ لیا، جبکہ لاپتہ اور زیر حراست کارکنوں کے اہل خانہ نے بھی بڑی تعداد میں مظاہرے میں شرکت کی۔ لاپتہ اور قید کارکنان کے اہل خانہ کا مطالبہ تھا کہ حکام لاپتہ ارکان کی بازیابی اور اسیروں کی رہائی کے لئے فوری اقدام اٹھائیں۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے کئی اہم رہنماؤں نے مظاہرے سے خطاب بھی کیا۔ ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم کنور نوید جمیل نےالزام لگایا کہ ’’پارٹی کارکنان کو گرفتار کرکےایم کیو ایم سے وفاداری تبدیل کرتے ہوئے ایک مخصوص پارٹی میں شمولیت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ کارکنان اور ذمہ داروں کو فون پر دھمکیاں دی جارہی ہیں، جبکہ ایسا نہ کرنے پر جیل بھیجنے اور مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہے۔‘‘

مظاہرے سے ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما اور سابق وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ''اب تک تقریباً70کارکن لاپتہ ہوچکے ہیں، جنہیں فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے عدالتوں سے سزا کی کبھی مخالفت نہیں کی، اب بھی جو جرائم پیشہ افراد ہیں یا جن پر الزامات درست ثابت ہوں انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے، ماورائے عدالت سزا کی مخالفت کریں گے''۔

XS
SM
MD
LG