رسائی کے لنکس

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاھ نے کہا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ ایم کیو ایم نے بجٹ کیوں مسترد کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ کوشش کرینگے کہ ایم کیو ایم کو بجٹ سے متعلق مطمئن کریں۔ ایم کیو ایم نے اپنے بیان میں بجٹ کو 'متعصبانہ' قرار دیا تھا

صوبہ سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت، متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کا بجٹ مسترد کرتے ہوئے، اتوار کو ہڑتال کی کال دی تھی۔ مالی سال-2016-2015 کا صوبہ سندھ کا سالانہ بجٹ وزیر خزانہ، سید مراد علی شاہ نے ہفتے کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا تھا۔
بعدازاں، ایم کیو ایم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چونکہ عوام رمضان کے مقدس مہینے کی تیاری میں مصروف ہیں، اس لئے ہڑتال دوپہر ایک بجے ختم کر دی جائے گی۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، کراچی کے بعض علاقوں میں صبح کھلنے والی دکانیں، سی این جی اور پیٹرول پمپ بند رہے۔

سندھ کے دوسرے شہروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں ہڑتال کا ملا جلا رجحان رہا اور پٹرول پمپ بند رہنے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔ دوپہر ایک بجے کے بعد معمول کی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔


سندہ اسمبلی میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ میری ذمہ داری بنتی ہے کہ سندھ کے لوگوں کو بتایا جائے کہ اگر بجٹ کی مخالفت کی جارہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہے'۔

انُھوں نے مزید کہا کہ ان کی کسی سے سیاسی دشمنی نہیں۔ بلکہ، وہ 'عوام کے مفادات کے خلاف ہونے والے اقدامات' کی مخالفت کریں گے۔


ادھر، سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 'بجٹ کو پڑھے بغیر ہڑتال کی کال دی گئی ہے'۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ 'بجٹ عوام دوست ہے'۔


سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاھ کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم ایم کیو ایم نے بجٹ کیوں مسترد کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ کوشش کرینگے کہ ّایم کیو ایم کو بجٹ سے متعلق مطمئن کریں'۔ ایم کیو ایم نے اپنے بیان میں بجٹ کو 'متعصبانہ' قرار دیا تھا۔


وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ 'کوئی مزدور بے روزگار نہ ہو، کسی کی دہاڑی پہ لات نہ پڑے، ترقی کا پہیہ چلتا رہے، تو کراچی اس سے بھی زیادہ ترقی کرے۔ لیکن، یہ ہڑتالوں سے نہیں ہوگا؛ بلکہ، یہ مذاکرات اور سیاسی ہم آہنگی سے ہوگا'۔


ایک روز قبل، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے 'خوشحالی اور ترقی کے لئے ہڑتالیں نہ کرنے' پر زور دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG