رسائی کے لنکس

ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ ان کے تین کارکنوں کو ’ماورائے عدالت قتل کیا گیا‘، جبکہ رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے‘

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے چار کارکنوں کے قتل کے خلاف ہفتے کو یوم سوگ اور اتوار کو احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ ان کے ’تین کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا‘، جبکہ رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے‘۔

سوگ اور ریلی کا اعلان پارٹی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ان کے تین کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جس پر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے قتل کی تحقیقات کرائی جائیں اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ’اس بات کا بخوبی علم ہے کہ یہ کارکنان کب، کیسے اور کس نے گرفتار کئے‘۔

بقول اُن کے، ’ہم ہر فورم پر اپنے 150 کارکنوں کی گمشدگی کا معاملہ اٹھا چکے ہیں۔ لیکن کہیں بھی ہماری شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو کارکنان حکومتی تحویل میں ہیں اگر ان کی گرفتاری ظاہر کر دی جائے تو ہم کوئی حساب نہیں مانگیں گے۔‘

دوسری جانب رینجرز کے ترجمان نے کہا ہے کہ جمعرات کو گڈاپ میں ہونے والے مقابلے کے دوران مرنے والے دہشت گرد تھے، جن کا تعلق ایم کیو ایم کی ایک ’ٹارگٹ کلنگ ٹیم‘ سے تھا۔ اُن کے الفاظ میں، ’ان کے مارے جانے پر ایم کیو ایم کا واویلا ناقابل فہم ہے‘۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز پر ماورائے عدالت قتل کا الزام گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے۔ مقابلے میں مارے جانے والے چاروں دہشت گر قتل، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث تھے۔

XS
SM
MD
LG