رسائی کے لنکس

یمن: سعودی اتحاد کا ایم ایس ایف اسپتال پر 'فضائی حملہ'


فضائی حملے میں متعدد دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

فضائی حملے میں متعدد دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پسماندہ ملک میں فضائی حملوں اور زمینی لڑائی کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے منگل کو کہا کہ یمن میں اس کی زیر نگرانی چلنے والا ایک اسپتال سعودی عرب کی قیادت میں فضائی حملے کا نشانہ بنا ہے۔

یمن میں سات ماہ سے جاری فضائی کارروائیوں میں شہری تنصیباب پر حملے کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔

ایم ایس ایف نے ٹوئیٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’’یمن کے علاقے صعدہ میں گزشتہ رات مریضوں اور عملے کے ارکان سے بھرے ایک اسپتال کو متعدد بار فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘

حوثی باغیوں کی زیر نگرانی چلنے والے یمن کے سرکاری خبررساں ادارے ’صبا‘ نے اسپتال کے ڈائریکٹر کے حوالے سے کہا ہے کہ حملے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی مغلی نے کہا کہ ’’فضائی حملوں سے پورا اسپتال تباہ ہوا ہے، اس میں موجود آلات، طبی سامان وغیرہ اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘‘

اس خبر کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔ سعودی اتحاد کے ترجمان نے بھی ابھی حملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے مارچ کے آخر میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تھی مگر یمن کی حکومت کو بحال کرنے کے لیے سات ماہ سے جاری فضائی کارروائیوں کے بعد بھی حوثی باغیوں سے دارالحکومت صنعا کا قبضہ نہیں چھڑایا جا سکا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پسماندہ ملک میں فضائی حملوں اور زمینی لڑائی کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اب تک اس خانہ جنگی میں 5,600 زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سفیر یمن میں سیاسی حل تلاش کرنے یا جنگ رکوانے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔

رواں ماہ کے اوائل میں افغانستان میں بھی ایم ایس ایف کے ایک اسپتال کو امریکی فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

قندوز کا قبضہ طالبان سے چھڑوانے کے دوران افغان سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف امریکی فضائی مدد کی درخواست کی تھی جس پر فضائی کارروائی کی گئی اور اس کی زد میں آنے والے اس اسپتال میں کم ازکم 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG