رسائی کے لنکس

قندوز اسپتال پر حملہ بلاجواز تھا، ایم ایس ایف کی رپورٹ


امریکی بمباری کا نشانہ بننے والا قندوز کا اسپتال

امریکی بمباری کا نشانہ بننے والا قندوز کا اسپتال

رپورٹ کے مطابق بمباری کے نتیجے میں اسپتال کی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے بچنے کے لیے اسپتال سے باہر نکلنے والے عملے کے افراد اور مریضوں پر فضا سے گولیاں برسائی گئیں۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم 'ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز' نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ ماہ شمالی افغانستان میں تنظیم کے ایک اسپتال پر امریکی بمباری بلا وجہ کی گئی تھی۔

'ایم ایس ایف' کے مخفف سے معروف تنظیم نے جمعرات کو اسپتال پر حملے کی تفصیلات اور تحقیقات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران قندوز میں واقع اسپتال کے احاطے میں طالبان شدت پسندوں کی موجودگی اور وہاں سے افغان فوجی اہلکاروں پر فائرنگ کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جس کا دعویٰ حملے کے بعد بعض امریکی حکام نے کیا تھا۔

گزشتہ ماہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ جنرل جان کیمپبل نے 3 اکتوبر کو اسپتال پر کی جانے والی بمباری کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی طیاروں نے اسپتال پر فضائی حملے برسرِ زمین موجود افغان فورسز کی درخواست پر کیے تھے جن پر اسپتال سے فائرنگ کی جارہی تھی۔

جمعرات کو امدادی تنظیم نے جو رپورٹ جاری کی ہے وہ ان تحقیقات کا ایک حصہ ہے جو حملے سے متعلق حقائق سامنے لانے کے لیے 'ایم ایس ایف' خود کر رہی ہے۔

رپورٹ امدادی تنظیم کے ان مقامی اور غیر ملکی ملازمین کے 60 سے زائد بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے جو قندوز میں بمباری کا نشانہ بننے والے 140 بستروں پر مشتمل اسپتال میں کام کرتے تھے۔

ملازمین کے بیانات کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں، 'ایم ایس ایف' کی اپنی معلومات، اسپتال کے حملے سے قبل اور بعد کی تصاویر، اسپتال انتظامیہ اور امدادی تنظیم کی قیادت کے درمیان ہونے والی ای میل بات چیت، اور حملوں کے دوران انہیں رکوانے کے لیے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے فوجی حکام کو کی جانے والی ٹیلی فون کالوں کا ریکارڈ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔

رپورٹ میں 'ایم ایس ایف' کے جنرل ڈائریکٹر کرسٹوفر اسٹوکس نے کہا ہے کہ اسپتال سے منسلک افراد کی رائے ہے کہ حملہ انہیں قتل کرنے اور عمارت کو تباہ کرنے کی نیت سے کیا گیا تھا۔

لیکن، کرسٹوفر اسٹوکس کے بقول، انہیں تحقیقات کے دوران یہ علم نہیں ہوسکا کہ حملے کی وجہ کیا تھی اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ افغان اور امریکی فوج کے درمیان ایسی کون سی معلومات کا تبادلہ ہوا تھا جس کی بنیاد پر اس حملے کا فیصلہ کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'ایم ایس ایف' بہت پہلے ہی افغان تنازع کے تمام فریقین کو اس بات پر قائل کرچکی تھی کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتےہوئے اسپتال کی غیر جانبدار حیثیت کا احترام کریں گے۔

'ایم ایس ایف' کی سربراہ ڈاکٹر جوانے لیو نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم افغان تنازع کے فریقین کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کی مکمل پاسداری کر رہی تھی اور فضائی حملوں سے پہلے اور حملوں کے عین وقت پر بھی اسپتال مکمل طور پر انتظامیہ کے کنٹرول میں تھا اور اس کی حدود میں کوئی ہتھیار نہیں لایا گیا تھا۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس وقت فضائی حملے شروع ہوئے اسپتال میں معمول کے آپریشن کیے جارہے تھے۔

اس موقع پر امدادی تنظیم کے جنرل ڈائریکٹر کرسٹوفر اسٹوکس کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت اسپتال میں 105 مریض موجود تھے جن میں قندوز میں جاری لڑائی کے دوران زخمی ہونے والے دونوں فریقوں کے افراد کے علاوہ خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ڈاکٹر اسٹوکس نے کہا کہ حملے کے بعد ذرائع ابلاغ میں آنے والی بعض خبروں میں یہ کہا گیا تھا کہ اسپتال کو شاید اس لیے حملے کا نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہاں طالبان جنگجووں کا علاج بھی ہورہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت لڑائی میں زخمی ہونے والے افراد – چاہے ان کا تعلق کسی بھی فریق سے ہو – علاج معالجے کا حق رکھتے ہیں اور ان پر دورانِ علاج کسی حملے یا برے برتاؤ کی اجازت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی قانون کے تحت طبی عملے کو اس بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی کہ انہوں نے زخمی جنگجووں کو طبی امداد کیوں فراہم کی؟

'ایم ایس ایف' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال پر اس بری طرح بمباری کی گئی تھی کہ بستروں پر موجود زخمی وہیں جھلس کر مرگئے جب کہ طبی عملے کے افراد ہاتھوں اور پیروں سے محروم ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق بمباری کے نتیجے میں اسپتال کی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے بچنے کے لیے اسپتال سے باہر نکلنے والے افراد پر فضا سے گولیاں برسائی گئیں۔

XS
SM
MD
LG