رسائی کے لنکس

مبارک کا قوم سے خطاب: کابینہ تحلیل، اصلاحات کا وعدہ


مبارک کا قوم سے خطاب: کابینہ تحلیل، اصلاحات کا وعدہ

مبارک کا قوم سے خطاب: کابینہ تحلیل، اصلاحات کا وعدہ

تین عشروں سے حکمراں، صدر حسنی مبارک جوکہ اب متنازع شخصیت بن چکے ہیں، قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ زور پکڑتے ہوئے مظاہروں کے پیشِ نظر وہ ساری کابینہ کو تحلیل کرکے اُس کی جگہ نئی حکومت کا اعلان کریں گے۔

جمعے کو مصری ٹیلی ویژن پر تقریر کرتے ہوئے اُنھوں نے بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کا وعدہ کیا۔
اپنے مختصر خطاب میں مسٹر مبارک نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ اقتدار سے دست بردار ہوں گے۔ اِس کے برعکس اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنی موجودہ کابینہ کو تحلیل کررہے ہیں اور ہفتے کو مکمل نئی کابینہ کا اعلان کریں گے۔

مسٹر مبارک 1981ء سے حکومت میں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے مصری مظاہرین کی شکایات سن لی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ بہتر مواقع پیدا کرنے اور بہترجمہوری مستقبل کےحصول کے لیے مصر کی معیشت اور معاشرے کو درست کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اِن مسائل کو تشدد یا ہنگاموں کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔

مظاہرین اُن کے استعفے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، تاہم مسٹر مبارک نے اِس ضمن میں کچھ نہیں کہا۔

جمعے کے روز لاکھوں افراد نماز فجر کےوقت متعدد شہروں کی سڑکوں پر امنڈ آئے، اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ اُن کی جھڑپیں ہوئیں۔

جب کہ ہفتے بھر سے مظاہرے جاری ہیں، اپنے پہلے خطاب میں مسٹر مبارک نے مصریوں پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں۔ دوسری طرف مظاہرین کو کچلنے کے لیے دارلحکومت میں ہر طرف فوجی تعینات کیے گئے تھے۔

اُنھوں نے نوجوانوں، خواتین اور مردوں سے تشدد ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ حسنی مبارک نے تمام مسائل کی ذمہ داری حکومت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیا۔

اُنھوں نےعوام کی جائز شکایات کو درست قرار دیا اور کہا کہ اُنھیں غریبوں کا خیال ہے اور وہ بے روزگاری کو ختم کرنے لے لیے اقدامات کریں گے۔

وہ ہفتہ کی صبح نئی حکومت اور کابینہ کا اعلان کریں گے۔

حسنی مبارک نے کہا کہ یہ مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ مصر میں آزادی اظہار موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG