رسائی کے لنکس

حسنی مبارک مظاہرین کے مطالبات مان لینگے: فوجی رہنما


حسنی مبارک مظاہرین کے مطالبات مان لینگے: فوجی رہنما

حسنی مبارک مظاہرین کے مطالبات مان لینگے: فوجی رہنما

مصر کے صدر حسنی مبارک نے اپنے خلاف شدید مظاہروں کے بعد مظاہرین کے مطالبات ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ اعلان مظاہروں کے سترویں روز کیا گیا ہے۔ ٕمظاہرین کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ صدر مبارک فوری طور پر استعفی دے دیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر مبارک جمعرات رات دیر گئے قوم سے خطاب کریں گے۔

تاہم بعد ازاں مصری وزیراطلاعات نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ صدر مبارک کے استعفی سے متعلق تمام اطلاعات افواہیں ہیں اور صدر مبارک مستعفی نہیں ہورہے اور ابھی بھی پاور میں ہیں۔

جنرل حسن الروئنی، قاہرہ کے ملٹری کمانڈر، نے التحریر اسکوئر میں ہزاروں مظاہرین کو بتایا کہ آپ کے ،تمام مطالبات آج ہی تسلیم، کرلیے جائینگے۔

ملٹری کی ٹاپ لیڈرشپ اپنے سپریم کمانڈر حسنی مبارک کے بغیر جمعرات کو میٹنگ کررہی ہے اور جس نے اپنے پہلے اعلان میں کہا کہ عوام کے تمام مطالبات تسلیم کرلیے جائینگے۔

امریکی سی آئی اے کے ڈائرکٹر لی آن پنیٹا نے کانگریس کو بتایا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جمعرات کی شام تک حسنی مبارک اقتدار چھوڑدیں گے۔

سرکاری ٹی وی پر فوجی ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ عوام کے تمام جائز مطالبات تسلیم کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ فوجی کونسل عوام اور قوم کے مفادات کی نگہبانی کے کیے تمام اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

دریں اثناء، مصر کے سرکاری وکیل نے سرکاری پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ممبر پارلمنٹ اور تین سابق وزیروں کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

۔ صدر حسنی مبارک نے استعفی کے مطالبے سے مسلسل انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں امیدوار نہیں ہونگے اور نہ ہی انکے بیٹے جمال مبارک یہ انتخاب لڑیں گے۔ لیکن مظاہرین نے انکا کہا ماننے سے انکار کردیا اور مظاہرے جاری رکھے جن کی شدت میں روز بروز تیزی آتی رہی۔

XS
SM
MD
LG