رسائی کے لنکس

مصر: سابق صدر مبارک کی اسپتال منتقلی کا امکان


مصر کے سابق صدر حسنی مبارک

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک

مصر ی حکام نے زیرِ حراست سابق صدر حسنی مبارک کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر انہیں ایک فوجی اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصر ی حکام نے زیرِ حراست سابق صدر حسنی مبارک کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر انہیں ایک فوجی اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصر کے ایک فوجی عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ سابق صدر کی صحت سے متعلق ایک رپورٹ کے بعد سرکاری استغاثہ نے انہیں جیل کے کلینک سے فوجی اسپتال منتقل کرنےکےاحکامات جاری کردیے ہیں۔

تاہم سابق صدر کی صحت سے متعلق اس رپورٹ کےمندرجات کی تفصیل سامنے نہیں آسکی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہوا ہے کہ سابق صدر کو اسپتال کب منتقل کیا جائے گا۔

'رائٹرز' نے خبر دینے والے فوجی ذریعے کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے جس کے مطابق سابق صدر کو دارالحکومت قاہرہ کے نواحی علاقے 'مادی' میں قائم فوجی اسپتال منتقل کیے جانے کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ تین عشروں تک مصر کے مطلق العنان حکمران رہنے والے حسنی مبارک کو عوامی احتجاجی تحریک کےنتیجے میں فروری 2011ء میں اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔

اقتدار چھوڑنے کے کچھ عرصے بعد حسنی مبارک کو حکام نے حراست میں لے لیا تھا اور رواں سال جون میں ایک عدالت نے انہیں اپنے خلاف چلنے والی احتجاجی تحریک کےدوران میں مخالفین کے قتل کا الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

چوراسی سالہ سابق صدر صحت کی خرابی کے باعث گزشتہ کئی مہینوں سے جیل کے اسپتال میں داخل ہیں۔
XS
SM
MD
LG