رسائی کے لنکس

محمدی بیگم: اردو میں حقوق نسواں کی بنیاد گزار


محمدی بیگم امتیاز علی تاج کی والدہ تھیں

اردو میں حقوق نسواں کی آواز سوا سو سال قبل بلند ہو گئی تھی ۔ حالانکہ اس زمانے میں یہ کام بے حد دشوار تھا ۔ یہ آواز بلند کرنے والی محمدی بیگم کو بے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، انہی کا ڈالا ہوا بیج بعد میں تناور درخت بن گیا اور اردو میں خواتین کی آواز بلند بانگ ہو کر ابھری، جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

اگرچہ اردو میں خواتین کے حقوق اور اصلاح کے لئے سب سے پہلا ناول پٹنہ کی رشیدالنسا بیگم نے ” اصلاح النساء“ کے عنوان سے 1875میں شائع کیا تھا لیکن ان کی آواز بہت دور تک نہیں پہنچ سکی تھی۔

اس لئے کہ یہ ناول بہت ہی محدود حلقے تک پہنچا تھا ۔ لیکن جب محمدی بیگم نے یکم جولائی سنہ 1998کو لاہور سے خواتین کا ہفتہ وار اخبار ” تہذیب نسواں “ جاری کیا تو اس اخبار نے نہ صرف خواتین کو آواز دی بلکہ ان کے حوصلوں کو بھی بلند کر دیا ۔ قرة العین حیدر اپنی خود نوشت ” کار جہاں دراز ہے “ میں لکھتی ہیں

” یکم جولائی 1898 ایک اہم تاریخ ہے اس روز لاہور سے شمس العلماءمولوی سید ممتاز علی نے زنانہ ہفتہ وار اخبار ” تہذیب نسواں “ جاری کیا ۔ ان کی بیوی محمد ی بیگم نے اخبار کی ادارت سنبھالی ۔

بہت جلد” تہذیب نسواں “ سارے ہندوستان کے متوسط طبقے کے اردو داں مسلم گھرانوں میں پہنچنے لگا ۔ اس کی وجہ سے معمولی تعلیم یافتہ پردہ نشیں خواتین میں تصنیف و تالیف کا شوق پیدا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے بڑی خود اعتمادی کے ساتھ ناول لکھنے شروع کر دئے جو تکنیک اور موضوع کے لحاظ سے آج سے 70برس بعد لکھے جانے والے بیشتر ناولوں سے کسی طرح کم نہیں ۔ “

آج اس دور کا تصور کرنا بھی آسان نہیں کیونکہ اس زمانہ میں ایک تو خواتین میں تعلیم کی ہی بے حد کمی تھی اور اس کے علاوہ ان کا لکھنا پڑھنا معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ ایسے دور میں کسی خاتون کے ذریعہ زنانہ اخبار نکالنا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ ” تہذیب نسواں “میں محمدی بیگم نے عورتوں کے مسائل پر لگاتا ر مضامین لکھے ۔ صرف اتنا ہی نہیں انہوں نے مرد قلمکاروں کو بھی اس جانب راغب کیا کہ وہ خواتین کے مسائل کو موضوع بنائیں ۔

لیکن انہیں قدم قدم پر دشواریوں کا سامنا کرناپڑا ۔ کیونکہ مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی مخالفت کے در پے تھی اور اس بات کی کوششیں کی جا رہی تھیں کہ کسی طرح ان کا اخبا ربند ہو جائے ۔ متعدد مقامات پر اس اخبا رکے داخلے کو روکنے کی کوشش کی گئی اور بہت سی جگہوں پر اس کی کاپیاں بھی جلائی گئیں۔ ایڈیٹر کے نام خطوط میں انہیں دھمکیاں دی جاتی تھیں اس کا اظہار محمدی بیگم نے اپنی ایک نظم میں اس طرح کیا تھا جو انہوں نے رسالے میں شائع کی تھی اور اس سے ان کا درد و کرب ظاہر ہوتا ہے ۔

فرقہٴ اخبار جو ہے مدعی ٴ ورد قوم
ورد جس کا رات دن ہے ہائے قوم اور وائے قوم
جو کہ ورد قوم میں ہیں رات دن زاری کناں
حب وطنی سے بنے جاتے ہیں محبوب جہاں
حامی تعلیم نسواں اور جہاں بھر کے لئیق
قوم غم سے اشک جاری اور خلقت پر شفیق
کیا انہوں نے واسطے تہذیب نسواں کے کیا
ان کا دل تہذیب کے حق میں تو پتھر ہو گیا
دل دکھایا جی جلایا کانٹے بوئے راہ میں
یہ صلے اہل وطن سے ہیں ملے بہنوں ہمیں

دنیا بھر کی مخالفتوں کے باوجود اس طوفان میں محمدی بیگم کے قدم نہیں ڈگمگائے، وہ اولعزمی کے ساتھ شب و روز اپنے مشن میں لگی رہیں۔ جس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ ان کی کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ خواتین کی اچھی خاصی تعداد ان کی حمایت میں سامنے آئی۔ جن میں نذر سجاد ، سلطان بیگم، مسز صفدر علی، عباسی بیگم، فاطمہ صغریٰ وغیرہ کے نام اہم ہیں اور یہ سب بعد میں قابل ذکر قلمکار بنیں ۔

محمدی بیگم کا مشن صرف رسالے کی ادارت اور اس میں مضامین لکھنے تک محدود نہیں تھا انہوں نے خواتین کے حقوق کے مطالبات کو مزید دھار دار بنانے کے لئے متعدد کتابیں بھی شائع کیں۔ جن میں رفیق عروس، انمول موتی، امتیاز پچیسی، حیات اشرف، سچے موتی، آداب ملاقات، تاج گیت، سگھڑ بیٹی، نعمت خانہ، دل پسند کہانیاں، تاج پھول، پان کی گلوری، چوہے بلی نامہ، خواب راحت، چندن ہار، علی بابا چالیس چور اور تین بہنوں کی کہانیاں ہیں ۔ ان تمام کتابوں کا تعلق خواتین سے تھا اس لئے اس زمانہ میں خواتین کے درمیان یہ کتابیں بے حد مقبول ہوئیں۔ اس دور کے پڑھے لکھے گھرانوں میں ان کتابوں کا ہونا بے حد ضروری تھی۔ محمدی بیگم نے تین ناول بھی لکھے جن میں صفیہ بیگم ، شریف بیٹی اور آج کل کے نام آتے ہیں۔ ان تینوں ناولوں کا تعلق بھی خواتین کو در پیش مسائل سے ہے ۔

محمدی بیگم نے پوری نسل کو متاثر کیا اور پھر ان کے بعد ان کے صاحبزادے امتیاز علی تاج اور حجاب امتیاز علی نے بھی ان کے مشن کو جاری رکھا ۔ ان کا رسالہ ” تہذیب نسواں “ سنہ 1949 تک جاری رہا۔ انہوں نے سنہ 1905میں خواتین کا ایک ماہانہ رسالہ ” مشیر نسواں “ بھی جاری کیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر نہیں چل سکا ۔

محمدی بیگم نے جو پودا لگایا تھا وہ بعد میں تناور ہوا ور اردو میں سینکڑوں خواتین قلمکار پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنے نمایاں نقوش چھوڑے۔ خاص طور پر حقوق نسواں کے حوالے سے ڈاکٹر رشید جہاں ، عصمت چغتائی، ادا جعفری بدایونی اور پروین شاکر جیسی بلند حوصلہ خواتین سامنے آئیں جنہوں نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا ۔

XS
SM
MD
LG