رسائی کے لنکس

دن کا آغاز مجالس سے ہوا جن میں ذاکرین اور علماٴ نے واقعہ کربلا اور اس کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔ بعدازاں علم، تعزیوں اور ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے

پاکستان بھر میں نو محرم کی مناسبت سے نکالے جانے والے تمام جلوس اپنی اپنی منرل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے جبکہ ڈبل سواری پر پابندی کے ساتھ ساتھ متعدد شہروں میں موبائل فون سروس بھی بند رہی۔

دن کا آغاز مجالس سے ہوا جن میں ذاکرین اور علماٴ نے واقعہ کربلا اور اس کے فلسفے پرروشنی ڈالی ۔ بعد ازاں علم، تعزیوں اور ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے ۔ درمیان میں جلوس کے شرکا ء نے نمازیں اداکیں جبکہ اس دوران جلوس کے راستوں پر سیکورٹی انتہائی سخت رہی۔

کراچی میں مرکزی جلوس کا آغاز نشتر پارک سے ہوا۔ اس موقع پر روایتی انداز میں مجلس بھی پڑھی گئی ۔ مجلس سے مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا۔ صبح کے اوقات میں شروع ہونے والا جلوس مغرب کے بعد کھارادر میں واقع حسینیہ ایرانیان امام باگاہ جاکر ختم ہوا۔

کراچی کی طرح باقی تینوں صوبائی دارالحکومتوں اور وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے علاوہ حیدرآباد، ملتان، راولپنڈی، بہاولپور، مظفر آباد، مظفر گڑھ ، ڈیرہ اسماعیل خان ، ڈیرہ غازی خان اورگوجرانوالہ سمیت دیگر تمام شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں بھی نومحرم کے ماتمی جلوس نکالے گئے اور مجالس عزا منعقد ہوئیں۔ اس دوران نوحہ خوانی ، گریہ و زاری، سینہ کوبی اور زنجیر زنی بھی کی جاتی رہی۔

ملک بھر میں جمعرات کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر تعینات رہی جبکہ فوج کو بھی الرٹ رکھا گیا۔ ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں کی جانب جانے والے تمام راستوں کو خاردار تاروں، کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کے ذریعے سیل رکھا گیا۔

اس دوران ملک کے درجنوں شہروں میں موبائل فون اور وائر لیس سروس مکمل طور پر معطل رہی تاہم آغاز شب کے ساتھ ہی باری باری مختلف شہروں میں موبائل فون سروس بحال ہونا شروع ہوگئی۔
XS
SM
MD
LG