رسائی کے لنکس

دلیپ صاحب شاہ رخ کے تیسرے بچے کی مبارکباد دینے، عید کے روز ان کے گھر پہنچے، جو ایک نوّے سالہ عظیم اداکار کا وقت کے مقبول فنکار کے لئے شفقت کا بھرپور اظہار اور اسکی خوشی میں شرکت تھی

عیدالفطر اپنی خوبصورت یادوں کے ساتھ رخصت ہو گئی۔ امریکہ سمیت کئی ملکوں میں اس مرتبہ عید ایک ہی دن منائی گئی،جو بڑی خوش آئند بات تھی۔خوبصورت اور نئے کپڑوں میں ملبوس مرد و خواتین اور بچےّ ایک دوسرے سے محبت سے گلے ملتے رہے اور لذیذ کھانے کھاتے رہے۔

عید بہت سے بچھڑے دوستوں اور رشتےداروں سے ملنے اور روٹھوں کو منانے کا موقع ہوتا ہے اور کبھی کبھی یہ ملاقاتیں بہت یادگار ہو جاتی ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ نے یہ کام اور بھی آسان کردیا ہے کہ دور و نزدیک کے لوگوں سے پل بھر میں ملاقات ہوجاتی ہے۔ان ملاقاتوں کی تصویریں فیس بُک اور اخباروں میں چھپتی ہیں اور سب محظوظ ہوتے ہیں۔

ایسی ہی ایک تصویر ایک اخبار میں میری نظر سے گزری، جسے میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ کیا بے مثال تصویر تھی۔ عقیدت اور محبت کے جذبات سے بھرپور۔ وقت کے ایک مایہ ناز لاثانی لیکن بزرگ اداکار سے ایک نوجوان سپر سٹار کا اظہارِ عقیدت۔

جی ہاں۔ یہ جناب یوسف خان، یعنی دلیپ کمار اور شاہ رخ خان کی تصویر ہے۔

دلیپ صاحب شاہ رخ کے تیسرے بچے کی مبارکباد دینے، عید کے روز ان کے گھر پہنچے، جو ایک نوّے سالہ عظیم اداکار کا وقت کے مقبول فنکار کے لئے شفقت کا بھرپور اظہار اور اسکی خوشی میں شرکت تھی۔ جواب میں، شاہ رخ نے، جن کی والدہ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں دلیپ کا ہم شکل قرار دیتی تھیں، اپنی عقیدت کا مظاہرہ اس طرح کیا کہ انہیں اپنے ہاتھ سے سویّاں کھلائیں،کیونکہ دلیپ صاحب ،ضعیف العمری اور رعشے کے باعث خود کھا نے میں دقّت محسوس کرتے ہیں۔

یہ تصویر ہر شعبے کے جونئیر لوگوں خاص طور پر فنکاروں کےلئے ایک پیغام ہے کہ اپنے سینئیرز کی عزت اور تکریم سے ہی آپ کو بلند درجہ حاصل ہوتا ہے اور آپ کی بھی توقیر بڑھتی ہے۔ دوسری طرف، بزرگوں کی جانب سے چھوٹوں کے لیے شفقت کی بھی ایک مثال ہے۔

ویسے دلیپ کمار میں اللہ نے کچھ ایسی خصوصیت رکھی ہے کہ وہ پردہٴ اسکرین پر ہوں یا اس سے باہر انکو لوگ اسی طرح ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔ ایک صدی سے لوگ ان کے دیوانے ہیں اور نہ جانے کب تک ان کی شخصیت کا سحر قائم رہے گا۔

مجھے اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب وہ پاکستان تشریف لائے اور ان کی خواہش تھی کہ وہ پشاور میں اپنے آبائی گھر کو دیکھ سکیں۔ خصوصی انتظامات کے تحت وہ پشاور پہنچے۔ قصّہ خوانی بازار کی سیر کی اور پھر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر، اس دورے کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ لیکن، نہ جانے کیسے خبر ہوگئی زمانے کو--اور ہونا بھی تھی۔ دلیپ کمار شہر میں ہوں اور انکی خوشبو شہر میں نہ پھیلے۔ لہٰذا، اپنے یوسف خان کو دیکھنے سارے پٹھان بھائی، بہنیں، بچے اور بوڑھے، سڑکوں پر امڈ آئے۔ گاڑیوں کا قافلہ منجمد ہوگیا۔ گھر دیکھنے جانا تو ناممکن تھا۔ مسئلہ یہ درپیش ہو گیا کہ یوسف بھائی کو اس ہجوم سے نکالا کیسے جائے۔ سیکیورٹی کی بھاری نفری لگائی گئی۔ لوگوں کو پیچھے دھکیلا گیا اور جیسے تیسے خان صاحب کو بحفاظت وہاں سے نکالا گیا اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی میراث کو دیکھنے کی حسرت لئے رخصت ہوگئے۔

اسی دورے میں انہیں ’نشانِ پاکستان‘ کا اعلیٰ ترین اعزاز عطا کیا گیا اور اس موقع پر پاکستان ٹیلیوژن اسلام آباد نے ان کے ساتھ ایک شام منعقد کی جس کی کومپئرنگ مرحوم معین اختر نے کی۔ اور اس تقریب میں محمد علی، زیبا اور ٹی وی کی معروف فنکارہ شہناز شیخ کے علاوہ بھارتی اداکار سنیل دت بھی شریک تھے۔ شہناز کو خصوصی طور پر لاہور سے بلوایا گیا تھا، کیونکہ دلیپ صاحب نے ان کا مشہور ٹی وی ڈرامہ ’ان کہی‘ دیکھا تھا اور انکی بےساختہ اداکاری کی بہت تعریف کی تھی۔

پروگرام ختم ہونے کے بعد وہ جب جنرل منیجر، سرور منیر راؤ کے ھمراہ اسٹوڈیو سے باہر آرہے تھے تو اتفاق سے میں بھی خبریں پڑھ کر دوسرے اسٹوڈیو سے نکل رہا تھا۔ اتنی بڑی ھستی کو اتنے قریب دیکھ کر میں احتراماًٍٍ رک گیا تو راؤ صاحب نے بکمال مہربانی ان سے میرا تعارف کروایا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دلیپ صاحب نے اس طرح اثبات میں سر ہلایا کہ جیسے وہ بہت مل چکے ہوں اور پہچاننے کی کوشش کر رہے ہوں۔ آپ انکی میرے ساتھ تصویر سے اندازہ کر سکتے ہیں۔

یہ تو ایک خوش فہمی سہی کے انہوں نے مجھے ٹی وی پر دیکھا ہوگا۔ لیکن اصل بات یہ تھی کہ میں ان سے تقریباً دس سال پیشتر اسلام آباد ہی میں مل چکا تھا۔وہ ایک الگ کہانی ہے۔

یہ غالباً 1988ء کی بات ہے۔ میں ویسٹرج راولپنڈی میں رہتا تھا۔ وہیں قریب میں ایک صنعتی علاقے میں حبیب ملز تھی جن کے مالک، میاں حبیب اللہ سے ہماری دعا سلام ہو گئی، جو بڑھتے بڑھتے ایک اچھے تعلق میں بدل گئی۔ میاں صاحب دوستوں کے دوست ایک شاندار شخصیت ہیں۔

میں گھر پر ہی تھا کہ ان کا فون آیا۔ ’کیا کر رہے ہیں؟‘ میں نے کہا، ’کوئی خاص نہیں‘۔
کہنے لگے، ’آ جایئے‘۔

اُن کا گھر بھی وہیں فیکٹری کے قریب ہی تھا۔ میں نے کہا، ’ اچھا آتا ہوں‘۔

کہنے لگے، ’گھر پر نہیں،اسلام آباد۔ میں‘۔

حیران ہوا کہ اسلام آباد کیوں؟ کہنے لگے پتہ لکھئے۔ تو معلوم ہوا کہ ان کے ایک دوست اور کاروباری شخصیت، جناب وارث کا گھر ہے اور بہت رازداری سے کہنے لگے، ’کسی سے ذکر نہ کیجئے گا۔ دلیپ صاحب آرہے ہیں۔ بس چند دوستوں کو دعوت دی ہے۔آپ اور بھابھی آجائیں‘۔

میں کافی دیر خوشی اور استعجاب کی کیفیت میں رہا اور یقین نہیں آرہا تھا کہ اُس شخصیت سے ملاقات ہو سکتی ہے جو برسوں سے، لاکھوں کروڑوں لوگوں کے ساتھ ساتھ، ہمارا بھی آئیڈیل رہا ہے۔ جن کی خبریں، اور باتیں ہم نے لوگوں سے ایک افسانے کی طرح سنی اور تصویریں بہت شوق سے دیکھی ہیں۔

تھوڑی دیر سکتے میں رہنے کے بعد، ہم نے میاں صاحب سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ جواب میں انہوں نے زور کا قہقہہ لگایا کہ، ’ارے صاحب۔ بالکل سچ ہے۔ آپ بس جلدی سے آجائیں‘۔

لو جناب۔ ہم نے مونا بیگم کو خوشخبری سنائی وہ بھی فوراً جانے کو تیار ہو گئیں۔لیکن، مسئلہ، پھول کا تھا کہ پھول کہاں جائےگا، یعنی دونوں بچیوں کو کس کے پاس چھوڑا جائے۔

ہمارے بیٹے حارث تو خیر سے اتنے بڑے تھے کہ آرام سے دادی کے پاس یا نانی کے گھر رہ جایا کرتے تھے۔ لیکن، دونوں بچیاں کافی چھوٹی تھیں۔ اور مدیحہ تو ماں کی گود میں ہی رہتی تھیں۔ لیکن، ربیعہ میری لاڈلی تھیں۔ وہ میرے پاس بہت آرام سے رہتی تھیں۔ اتنا وقت نہیں تھا کہ انہیں نانی کے گھر چھوڑ دیا جائے۔ ویسے بھی، وقت شام کا تھا جو ان کے کھانے اور سونے کا ٹائم تھا۔ بچوں کو ویسے بھی ایسی تقریب میں لے جانا مناسب نہیں ہوتا اور یہ تاریخی موقع گنوانا بھی کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا، فیصلہ ہوا کہ ان کو ساتھ ہی لے جائیں۔جو ہوگا دیکھا جائیگا۔ لہٰذا، جو بھی ضروری سامان رکھنا تھا بچوں کا وہ گاڑی میں رکھا اور فوراً روانہ ہو گئے۔

پنڈی پشاور روڈ سے گولڑہ موڑ کے راستے اگر اسلام آباد جائیں تو تقریباً آدھا گھنٹہ لگ ہی جاتا ہے۔ وہی قریب ترین اور تیز ترین راستہ ہے۔ لیکن اس وقت یہ راستہ بہت طویل محسوس ہو رہا تھا۔ پچھلی سیٹ پر بچیاں ماں سے باتیں کرتے کرتے نہ جانے کب سو گئیں۔ اور مونا مجھ سے کیا کیا پوچھتی رہیں۔ کچھ خبر نہیں تھی میں تو کسی اور دنیا میں کھویا ہو ا تھا۔ ایک فلم کی طرح ماضی کے اوراق پلٹ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
XS
SM
MD
LG