رسائی کے لنکس

قرآن کی ابتدائی تعلیم کی رحمت و برکت، سکول کے انتہائی مہربان اساتذہ کی ہمیں ایک مقرّر بنانے کے لئے محنت اور بچوں کے ریڈیو پروگراموں کی مفید تربیت نے ہمیں اُس منزل پر پہنچا دیا، جس کا خواب نہ ہم نے دیکھا تھا اور نہ ہی ہمارے والد صاحب کو علم تھا

یہاں واشنگٹن میں قائم ایک ادبی تنظیم’سوسائیٹی آف اردو لٹریچر‘، یعنی ’سول نے اپنے ایک ماہانہ اجلاس میں ’اردو اور ذرائع ابلاغ‘ کےموضوع پر ایک دلچسپ مذاکرے کا اہتمام کیا۔

بھارتی ادیب و ہدایتکار امیش اگنی ہوتری نے صدارت کی، جبکہ شرکاء میں معروف اداکارہ ریما خان،انکے شوہر ڈاکٹر شہاب، چند معروف صحافی، پروفیسر صاحبان اور ادبی شخصیات شامل تھیں۔

سب مقررین نے ہی اپنے اپنے انداز میں اردو کی بے سروسامانی اور اسکی زبوں حالی کا ذکر کیا اور اس پر افسوس ظاہر کیا اور ذاتی مشاہدات اور تجربات سے اس کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

انکی بہت سی باتیں صحیح بھی تھیں،لیکن میرا نقطہٴ نظر ذرا مختلف تھا۔

میں نے کہا کہ یہ تاثر صحیح نہیں کہ اردو زوا ل پذیر ہے۔ ہر دور میں اسکے بارے میں خدشات پیدا ہوتے رہے۔ لیکن یہ زبان جو لشکریوں کی ،آپس کی بول چال کی ضرورت کے تحت وجود میں آئی، آج بھی مختلف طبقوں اور لوگوں کے درمیان بات چیت کا سب سے موٴثر ذریعہ ہے ۔

اور یہ اندیشہ کرنا کہ علاقہ یا ملک بدلنے سے زبان ختم ہو جاتی ہے۔بالکل غلط ہے۔ زبان کو ہمیشہ لوگ زندہ رکھتے ہیں علاقے نہیں۔ جہا ں تک بہت معیاری یا ادبی اور شاعرانہ زبان کاتعلق ہے، اسکے متوالے ہمیشہ ہر دور میں چند لوگ ہی رہے ہیں۔

زبان ،تہذیب اور مذہب کو زندہ رکھنے کیلئے،انفرادی سطح پر گھر میں بچوں کے ساتھ محنت کرنا پڑتی ہے، تب کہیں جا کے ایک نئی نسل اس سے آشنا ہوتی ہے۔

میں اپنی مثال آپکے سامنے پیش کرتا ہوں۔ابھی جناب کاظمی صاحب نے اور محترمہ ریما صاحبہ نے ،پی ٹی وی کے اس دور کی تعریف کی ہے ،جب ہم لوگ بڑی صاف اور شُستہ زبان میں خبرنامہ پڑھا کرتے تھے،لب و لہجہ اور انداز بڑا دلفریب اور معیاری تھا۔

اس قدر عزت افزائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، میں اس کا سبب آپ کو بتاؤں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ٕ

میں نے اپنے ذاتی مشاہد ات اور تجربے کی بناء پر اس دلیل کے حق میں دلائل دئے۔پھر مجھے یہ خیال آیا کہ اردو زبان کی اپنی زندگی میں اہمیت اور نیوز کاسٹر بننے کی کہانی آپ سے بھی شیئر کروں۔شاید آپکو بھی پسند آئے۔

میری پیدائش پنجاب کے ایک شہر راولپنڈی کے ایک پرانے محلّے میں ہوئی ۔ میرے والد مرزا عبد الحمید بیگ،علیگڑھ یونیورسٹی کے اعلٰی تعلیمیافتہ تھے۔آپ جانتے ہیں کہ اس درسگاہ میں صرف صاحبِ ثروت افراد ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے تھے۔ تو سمجھئے کہ میرے والدنے کہاں پرورش پائی،کس ناز و نعم سے انہیں پالا گیا،کس خاندان سے انکا تعلق تھا۔ لیکن، پاکستان کی محبت انہیں کھینچ لائی پنڈی شہر میں ،جو ایک فوجی چھاؤنی تھا اور پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر تھا اس وقت۔

میری دو بڑی بہنیں تھیں اور گھر میں ایک بیٹے کی آمد خوشی کاباعث تو تھی۔ لیکن پریشانی کا سبب بھی تھی،اس لئے کہ والد صاحب کو خطرہ ہوا کہ لڑکا باہر نکلے گا ،آوارہ قسم کے لڑکوں سے اسکی دوستی ہو جائیگی،گندی زبان سیکھے گا اور خاص طور پر یہ کہ اسکی اردو بگڑ جائیگی۔

لہٰذا، جناب، ہم پر سخت قسم کا مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔گھر سے باہر کھڑا ہونے ،کسی سے بات کرنے پر سخت پابندی تھی،گولیاں بنٹے کھیلنے یا پتنگ بازی کی تو مجال ہی نہیں تھی۔بس جناب کہیں اس حکم کی خلاف ورزی ہوئی اور والد صاحب کی طرف سے سخت تعزیرات عائد ہو گئیں۔ بلکہ محلّے والوں کو بھی،والد صاحب نے سخت نظر رکھنے کی کھلی اجازت دے رکھی تھی۔

اب زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔اب کوئی بھی آپکے بچے کوکچھ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا ۔چاہے وہ استاد ہی کیوں نہ ہو۔ماں باپ فوراً کلاشنکوف نکال لائیں گے۔اور اس وقت ہم ڈانٹ ڈپٹ کے بعد روتے ہوئے گھر آتے تھے تو گھر میں مزید مار پڑتی تھی کہ یقیناً تم نے ہی کچھ کیا ہوگا۔

ابھی اسکول جانے کی عمر نہیں ہوئی تھی کہ ایک قریبی مسجد میں قرآن پڑھنے کے لئے بھیج دیا گیا۔امام صاحب حکیم بھی تھے،اس لئے کبھی کبھی اپنے مطب پر ہی بچوں کو تعلیم دیتے اور قرآنی سپارے پڑھانے کے ساتھ ساتھ ،تختی پر خوشخطی کی بھی مشق کراتے تھے۔

اِدھر گھر میں بڑی بہن اور ابا جان ،ادب آداب ،بیٹھنے اٹھنے کا طریقہ ،بات کرنے اور مہمانوں کے سامنے پیش ہونے کا سلیقہ سکھاتے رہتے؛ اور گستاخی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔غرض تمام مغلیہ شائستگی ہم میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی۔

اس تمام تر سختی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہمیں پہلی جماعت کا قائدہ پڑھنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔اردو بولنے اور لب و لہجے میں مہارت ہوئی اور پرائمری کلاس کے بعد ،ہائی سکول کے لئے ایسے مدرسے کا انتخاب کیا گیا جسکے پرنسپل شیخ حبیب احمد صاحب،ایم۔اے علیگ تھے۔سکول میں بالکل علیگڑھ کے انداز میں شیروانی اور ٹوپی پہنی جاتی تھی اور یہی یونیفارم گورنمنٹ کالج میں بھی رہی۔لیکن، اچھی بات یہ تھی کہ اسکول غیر نصابی سرگرمیوں میں بہت آگے تھا۔لہٰذا، جب ہمارے اردو کے اساتذہ جناب عبید الاسلام زینی اور جناب صغیر احسن نے ،ہماری اردو سنی تو فوراً تقریری مقابلوں کے لئے منتخب کر لیا اور ہماری تربیت پر محنت شروع کر دی۔کیا مشفق اساتذہ تھے ،بچوں کو اپنی اولاد سمجھتے تھے ۔دنیا سے رخصت ہو گئے۔ لیکن، ہماری زندگی بنا گئے ۔پھر آہستہ آہستہ تقریری مقابلوں میں جانا شروع کر دیا۔ کچھ انعامات حاصل کرنے کے بعد ہم سکول کےباقاعدہ مقرِّر بن گئے۔

اتفاق دیکھئے کہ بہت عرصے بعد جب میں ریڈیو پاکستان کا نیوز ریڈر بن چکا تھا،تو مرحوم عبید الاسلام زینی صاحب، خبروں کے مترجم بن کر ریڈیو میں آگئے اور ان سےتعلق کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سکول کی تقریروں میں کامیابیاں جاری تھیں کہ ایک مرتبہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے بچوں کے ایک پروگرام میں تقریری مقابلے کا دعوت نامہ آگیا۔ اسکول والوں نے ہمارا نام بھیج دیا۔

مشہور مزاحیہ ناول نگار شفیق الرحمان، جو اُس وقت کرنل تھے، اور بعد میں جنرل کے عہدے پر پہنچے،صدارت کر رہے تھے۔تمام بچوں میں ہمیں پہلا انعام مل گیا اور ساتھ میں پانچ روپے بھی۔بڑی خوشی ہوئی۔لیکن زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب بچوں کے بھائی جان ،مضطر اکبر آبادی نے، جو انتہائی مخلص انسان تھے ،بچوں کے پروگرام میں مستقل شرکت کی پیشکش کر دی۔یعنی ہر ہفتے پانچ روپے جیب خرچ اورریڈیو پروگرام کا مزا علیحدہ۔یہ پروگرام ہر اتوار کو صبح نو بجے ہوتا تھا اور بڑے شوق سے گھر گھر سنا جاتا تھا۔بس یوں سمجھئے یہ ہمارے براڈکاسٹنگ کیرئیر کا آغاز تھا۔

چار سال کے قریب بچوں کے پروگرام میں شامل رہے۔پھر آواز و انداز بدلنا شروع ہوا تو ہم نے بھی بڑوں کے پروگرام کی طرف توجہ دی۔ لیکن، یہ ایک ایسی درمیانی عمر تھی کہ آواز نہ بچوں کی تھی نہ بڑوں کی۔ لہٰذا، ہمیں انتظار فرمائیے کا بورڈدیکھنا پڑا۔

یہ انتظار بڑا کٹھن تھا۔بہت جتن کئے،بڑی مشق کی،اداکار محمد علی کی فلموں اور دوسرے بھاری آوازوں والے اداکاروں کی نقالی کی کوشش کی۔بند کمرے میں روزانہ یہ مشق ہوتی تھی۔ پھر یہ مسلسل ریاض کام آیا اور کچھ محسوس ہونے لگا کہ اب اس قابل ہیں کہ آڈیشن دیا جاسکتا ہے۔

یعنی آواز کا امتحان ریڈیو پر ۔یہ مرحلہ تو کامیاب رہا اور سب لوگوں نے آواز پسند کی۔ لیکن، انتظار تھا کہ سٹیشن ڈائیرکٹر صاحب آخری منظوری دیں گے۔اب مشکل یہ تھی کہ انکو وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔پھر ایک دن جب ان سے متعلقہ افسران نے درخواست کی کہ جناب بہت دن ہو گئے آپ یہ آڈیشن سن لیں۔پوچھا کون ہے۔ بتایا گیا کہ یہ وہ بچہ ہے جو بچوں کے پروگرام میں آتا تھا۔

کہنے لگے پھر تو ابھی بہت امیچیور ،یعنی ناپختہ ہوگا۔چھوڑو،کچھ اور وقت دو اُس کو۔لیجئے، جناب ہمارے انتظار کی گھڑیاں مزید طویل ہو گئیں اور اِدھر یہ حال کہ کالج کی تمام چھٹیاں،ریڈیو پاکستان ،پشاور روڈ کے چکر لگاتے گزر گئیں،کبھی سائیکل،کبھی بس ،کبھی پیدل یا کبھی کسی کی موٹر سائیکل پر۔تھک ہار کر نا امید ہو گئے اور جانا چھوڑ دیاکہ شاید ریڈیو کو ہماری ضرورت ہی نہیں۔

اُدھر ایک سینئر اناؤنسر ،فیاض شاہین نے اچانک چھٹی لے لی۔بعد میں پتہ چلا کہ انہوں نے ہمیں موقع دلوانے کے لئے یہ کاروائی کی۔اللہ غریق رحمت کرے۔

اب واقعی مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ کسے ان کی جگہ اناؤنسر کے فرائض دیں۔کسی ہمدرد نے کہا کہ اس لڑکے کو کیوں نہیں بلاتے۔لہٰذا، ہنگامی طور پر، چند افسران نے جاکر ڈائرکٹر صاحب سے پھر درخواست کی جناب یہ آواز سن لیں،ہمیں ایک اناؤنسر کی اشد ضرورت ہے۔

سٹیشن ڈائرکٹر ،شیخ حمیدمرحوم نےبادلِ نخواستہ ہماری آواز کا ٹیپ سنا۔تو پھر حیرانی کے ساتھ دو تین مرتبہ سنا۔کہنے لگے بھئی ویسے تو یہ بچہ سا نظر آتا ہے۔ لیکن،لب و لہجہ اور آواز کافی پختہ ہے۔بس پھر کیا تھا۔ ہماری لاٹری نکل آئی اور شیخ حمید کی چھوٹی سی ہاں نے ہمارے نصیب کےدروازے کھول دئے اور ہم براڈکاسٹنگ کی حیرت انگیز اور رنگا رنگ دنیا میں داخل ہو گئے۔

پہلے کچھ عرصہ عارضی اور پھر مستقل بنیادوں پر اناؤنسر ہوگئے۔ اس دوران، ٕمرحوم نور احمد ،کبیر رحمانی اور برکت اللہ کے ساتھ متعدد ریڈیو ڈراموں میں صداکاری کا اپنا اصلی شوق پورا کیا۔ اور بہت لطف اٹھایا۔ یہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے ڈرامے کے یہ بہت بڑے نام تھے۔

بطور اناؤنسر ہماری اچھی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حُکّام ِبالا نےایک نئے پروگرام ’کمرشل سروس ‘کی ذمہ داریاں ہمیں سونپ دیں۔یہاں صحیح جوہر دکھانے کا موقع ملا۔یوں تو یہ فلمی نغموں کا پرگرام تھا ،جس دوران ،تجارتی اشتہارات بھی چلتے تھے۔اس لئے اس کو کمرشل سروس کہا جاتا تھا۔لیکن پیشکش کو دلچسپ بنانے کے لئے،مختلف موضوعات پر ایسے پروگرام بنا لئے جن میں سامعین خطوں کے ذریعے شرکت کرتے تھے۔یہ پروگرام سب بہت مقبول ہوئے اور ساتھ ہی ہمارا نام بھی گلی کوچوں میں عام ہوا۔خیال تھا کہ اب اسی شہرت اور کام میں زندہ رہیں گے۔لیکن، قدرت نےکچھ اور سوچ رکھا تھا اور منزل کہیں اور تھی۔

لہٰذا، یہ مقام بھی عارضی ثابت ہوا۔اور ایک دن جب کوئی نیوز ریڈر نہیں آیا تھا تو ہمیں راولپنڈی کی مقامی خبریں پڑھنے کے لئے کہا گیا۔پانچ منٹ کی یہ خبریں پڑھ کر باہرنکلے تو چپراسی نے کہا کہ ایس ڈی صاحب بلا رہے ہیں۔اس وقت سٹیشن ڈائرکٹر شمس الدین بٹ تھے، جو کراچی سے ٹرانسفر ہو کر آئے تھے اور وہ مجھے زیادہ نہیں جانتے تھے۔انکا تکیہ کلام تھا ’مولانا‘۔تو مجھے دیکھتے ہی بولے’مولانا‘ یہ خبریں آپ پڑھ رہے تھے۔ہم نے سوچا پھنس گئے کچھ گڑبڑ ہو گئی۔لیکن، جھوٹ کی گنجائش نہ تھی اس لئے ، ہکلاتے ہوئے کہا : ’جی۔جی ہاں‘۔

کہنے لگے، بھئی یہ کیا پڑھ دیا۔پھر انہوں نے اپنے سامنے رکھے کاغذ پر لکھی ہماری کچھ غلطیاں بتائیں اور کہنے لگے یہ اس طرح نہیں اس طرح ہیں۔ انہوں نے بہت پیار سےکسمجھایا۔

بڑی شرمندگی ہوئی اور آئندہ کے لئے معذرت کرتے ہوئے جب کمرے سے نکلنے لگے تو انہوں نے کہا،آپ پہلے بھی خبریں پڑھتے رہے ہیں۔میں نے کہا، نہیں۔ تو کہنے لگے ،پڑھا کریں۔آپکی آواز اور انداز اچھا ہے۔مشق کریں گے تو اور بہتر ہو جائیگا۔

کہنے لگے میں آپکی شام کی ڈیوٹی لگا دیتا ہوں ، تاکہ آپ زیادہ خبریں پڑھ سکیں۔

اب پریشانی شروع ہوئی کہ ہماری دلچسپی تو اناؤنسمنٹ اور پروگراموں میں تھی اور ڈھیر سارے خط روزانہ آتے تھے، پرستاروں کے روزانہ فون آتے تھے۔یہ کہاں خبروں جیسے خشک پروگرام میں ہمیں پھنسانے لگے ہیں۔تو، ہم نے بہانے بنانے شروع کئے کہ وہ شام کو میں کالج جاتا ہوں اور پھر گھر سے بھی دیر ہو جاتی ہے۔وغیرہ۔

ہماری گھبراہٹ دیکھ کر کہنے لگے:مولانا،آپکو معلوم ہے کہ ریڈیو پاکستان کا خبروں کا مرکزی شعبہ ،سنٹرل نیوز آرگنائزیشن آئندہ سال اسلام آباد آرہا ہے اور وہاں سے کوئی نیوزریڈر یہاں نہیں آئیگا۔لہٰذا، آپ کے لئےموقع ہے کہ ایک سال میں تیاری کرلیں تو آپ قومی خبریں پڑھ سکتے ہیں ۔

اتنی بڑی خبر اور اتنی اچھی پیشکش۔ہمارے لئے انکار کی گنجائش نہ تھی۔لیکن، پھر بھی ہماری گھبراہٹ بھانپ گئے۔کہنے لگے کبھی کبھی پڑھ لیا کریں۔

میں شکریہ کہہ کر نکل آیا۔لیکن ،انہوں نے نیوز ایڈیٹر کو ہدایت نامہ بھیج دیا کہ اسے نیوز ٹیم میں شامل کر لیں اور یوں ہماری تیاری شروع ہو گئی۔

ایک سال بعد ،مرکزی نیوز کا شعبہ واقعی اسلام آباد آگیا ۔اس میں جناب وراثت مرزا اور عبدالسلام اردو میں اور ریاض احمد خان اور ایڈورڈ کیریپیٹ ،انگریزی خبروں کی لئے ساتھ آئے تھے۔لیکن، پھر بھی انہیں مزید نیوز ریڈرز کی ضرورت تھی۔بہت سے لوگوں نے آواز کا امتحان دیا اور اس مرحلے سے ہمیں بھی گزرنا پڑا اور یوں ہم پروگراموں کی رنگین دنیا سے،خبروں کی نت نئی دنیا میں داخل ہو گئے۔

اس دوران چکلالہ کے علاقے میں پاکستان ٹیلی وژن کا بھی آغاز ہو چکا تھا۔ گویا، ہمارا مقدّر خود چل کر ہمارے گھر آگیا تھا ۔

لیکن، وہاں بھی ہمارا بنیادی شوق غالب آیا اور ہم ہیرو بننے کے شوق میں ٹٰی وی ڈراموں کی طرف لپکے۔لیکن، وہی مسئلہ کچھ کم عمری کا، اور کچھ چہرے مہرے کی ناپختگی کا۔ ہمارے ہیرو بننے کی راہ میں حائل ہوگیا۔ اور ہم چھوٹے موٹے کرداروں یا داڑھی موچھ لگا کر آواز کے سہارے کام کرتے رہے۔لیکن، پھر یہی آواز ،جسے ریڈیو نے پختہ بنا دیا تھا ،ہمیں ٹی وی نیوز روم میں لے گئی ۔انہیں پس منظر میں فلموں کی کومنٹری پڑھنے اورموسم کا حال بتانےکے لئے اسی آواز کی ضرورت تھی۔ان کی یہ پیشکش شوق کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری تعلیم کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک مستقل ذریعہ بن گئی ۔تھوڑے عرصے کے بعد ہی ٹی وی نے پانچ منٹ کا خبروں کا ایک نیا بلیٹن شروع کیا تو بس یوں سمجھئے ،مزے آگئے۔

اور وہ کہانی تو آپ کو میں اپنے ایک بلاگ میں سنا ہی چکا ہوں کہ کس طرح ہم خبریں پڑھ رہے تھے تو منیجنگ ڈائرکٹر ،پی ٹی وی، جناب اسلم اظہر اور ڈائرکٹر نیوز زبیر علی نے ہمیں دیکھا اور ان کی نظرِ کرم کے طفیل ہم خبرنامے کے لئے چن لئے گئے۔

قرآن کی ابتدائی تعلیم کی رحمت و برکت، سکول کے انتہائی مہربان اساتذہ کی ہمیں ایک مقرّر بنانے کے لئے محنت اور بچوں کے ریڈیو پروگراموں کی مفید تربیت نے ہمیں اُس منزل پر پہنچا دیا، جس کا خواب نہ ہم نے دیکھا تھا اورنہ ہی ہمارے والد صاحب کو علم تھا کہ وہ اپنی اردو زبان ،تہذیب ، شائستگی اور لب و لہجے پر زور دے کر مستقبل کے لئے ایک نیوزکاسٹر تراش رہے ہیں۔

پھر کیا تھا۔جناب ، ریڈیو تھا، ٹی وی تھا، خبریں تھیں اور ہم تھے۔وقت تیزی سے بھاگتا رہا ،مہ وسال گزرتے رہے اور ہم پاکستان کی بدلتی تاریخ کا حصہ بن گئے۔

دور بدلتے رہے۔حکومتیں بدلتی رہیں۔،سربراہ بدلتے رہے۔خبریں وہی رہیں صرف نام بدلتے رہے۔

پہلے ایک ٹی وی تھا ایک ریڈیو تھا۔ امن و سکون تھا۔سیدھی سادھی خبریں تھیں۔حکومتی بیانات تھے۔اپو زیشن کا کہیں نام نہیں تھا۔لوگ خبرنامہ کو حکومت نامہ کہتے تھے۔اسے بُرا بھی سمجھتے تھے۔لیکن، پھر بھی رات کا خبرنامہ ،ہر شخص، باقائدگی سے اور پوری توجہ کے ساتھ سنتا تھا۔ حالانکہ، اس دوران، رات کا کھانا بھی کھایا جاتا تھا،مگر بچوں کو سختی سے خاموش کرادیا جاتا تھا۔

پھر یوں ہوا کہ پرائیویٹ چینلز کا ایک سیلاب آگیا۔ہر چینل ،نیوز چینل بن گیا۔بیچ میں کہیں کہیں دلچسپی کےلئے ایک آدھ ڈرامہ یا کوئی تفریحی پروگرام دکھا دیا جاتا۔

سو کے قریب چینلوں پر دو سو سے زیادہ نیوز کاسٹرز اور اینکرز ، دن رات خبریں اور ٹاک شوز پیش کرتے ہیں۔

اب ظاہر ہے اردو کا معیار کہاں رہے گا۔یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے سیدھے ٹی وی پر آگئے اور بظاہروہ تربیت کی اس سخت بھٹی میں سے نہیں گزرے، جس سے ہم لوگ گزرے تھے۔اور اب انکی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔اب انہیں وہ مال بیچنا ہے،جسکی بازار میں مانگ ہو۔اب بریکنگ نیوز اور درجہ بندی یعنی ’ریٹنگ‘ کا دور ہے۔

مسابقت کے اس دور میں، گلے پھاڑ نا، دھماکے دار اور سنسنی خیز خبریں سنانا اور اشتہاروں کی بھرمار، وقت اور کاروبار کی ضرورت ہے۔

لیکن، میں ان نوجوانوں کو دوش نہیں دیتا۔بلکہ، میں سمجھتا ہوں کہ بغیر کسی خاص تربیت کے یہ جتنا اچھا کام کر رہے ہیں وہ بہت قابلِ ستا ئش ہے۔ان میں سے زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔اچھی معلومات رکھتے ہیں۔پر اعتماد ہیں اور بولنے میں کوئی خوف نہیں رکھتے۔چاہے سامنے کوئی بھی ہو۔پھر سب سے بڑی بات کہ انہیں جدید دور کی تمام سہولتیں حاصل ہیں۔ اور نئی ٹکنالوجی میں مہارت رکھتے ہیں۔ان تمام خوبیوں کے ساتھ زبان پر عبور ہونا ،بہت کم اہمیت رکھتا ہے۔

اور میں جب اپنے آپ سے اور اپنے وقت سے ان ذہین نوجوانوں کا موازنہ کرتا ہوں تو یہ کہیں آگے نظر آتے ہیں اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اس تیز رفتار دنیا میں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے۔

لہٰذا، ان کی اردو اور تلفظ کی غلطیاں نکالنا،کسی طور مناسب نہیں ہو گا۔

اور پھر آپ سوچئے کہ تقریباًٍ ایک سو چینل روزانہ چوبیس گھنٹے اردو خبروں اور پروگراموں کی بھر مار کئے ہوئے ہیں اور پاکستان کے اٹھارہ کروڑ میں سے آدھے سے زیادہ عوام انہیں دیکھتے اور ان سے محظوظ ہوتے ہیں۔بلکہ، یہ چینل دوسرے ملکوں بھی بڑے شوق سے دیکھے جاتے ہیں اور اب تازہ خبر یہ ہے کی بھارت کے ایک دو چینل صرف اور صرف پاکستانی ڈرامے دکھا رہے ہیں اور بھارتی عوام ان کی تحریر،اداکاری اور ہدایت کاری اور خاص طور پر فنکاروں کی شستہ اور صاف اردو اور مکالموں کی ادائیگی کے دیوانے ہوگئے ہیں۔بلکہ، ان اداکاروں کو وہاں بلا کر ان کی خوب پذیرائی ہو رہی ہے۔ اور انہیں فلموں میں بھی کاسٹ کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، بھارتی خواتین ،پاکستانی خواتین کے لباس اور سٹائل سے محظوظ ہو رہی ہیں۔

تو جناب جب کروڑوں افراد ،مختلف ذرائع سے اردو استعمال کر رہے ہیں اور اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تو پھر بتائیے، کہاں یہ زبان زوال پذیر ہے۔

مجھ ناچیز کی رائے ہے کہ اردو زندہ تھی، زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔

XS
SM
MD
LG